لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بیری نے زور دیا ہے کہ حکومت پر حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا ہے کہ حکومت مکالمہ کرے ۔
ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے اتحادی سپیکر کا یہ مشورہ اتوار کے روز اس وقت سامنے آیا ہے جب لبنانی فوج حزب اللہ سے ہتھیار واپس لینے کے لیے ایک منصوبے کی منظوری دینے والی ہے۔ جسے بعد ازاں لبنانی کابینہ بھی اپنے اجلاس میں دیکھے گی۔
یاد رہے اسرائیلی ریاست کے ساتھ حزب اللہ نے 27 نومبر 2024 تک ایک جنگ لڑی ۔تاہم 27 نومبرکو امریکہ اور فرانس نے فریقین میں جنگ بندی کرادی۔ اس معاہدے کے مطابق حزب اللہ کو لبنانی سرحد کے دریائے لیطانی سے جڑے علاقے سے پیچھے جانا تھا اور اسرائیلی ریاست کو جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں کا قبضہ چھوڑ کر واپس جانا تھا۔ مگر اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان میں کم از کم پانچ مقامات پر اپنے پورے کیل کانٹے کے ساتھ موجود ہے۔
اب ماہ اگست میں امریکہ کے پیش کیے گئے ایک منصوبے کے تحت لبنانی کابینہ نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے گروپ کو غیر مسلح کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ۔یز لبنانی حکومت کے شیعہ وزیر اور سپیکرر نبیہ بیری کے حکومت کے لیے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا۔
سپیکر نبیہ بیری نے اتوار کے روز کہا ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن یہ پرسکون ماحول میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔دباؤ کے ساتھ ایسے مذاکرات نہیں ہو سکیں گے۔
نبیہ بیری نے اس موقع پر لبنانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔جس نے امریکی منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے اپنی ریاست کے اصولوں اور اقدار کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے کسی قسم کے دباؤ میں آکر مذکرات کرنے سے انکار کیا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ لبنانی کابینہ لبنانی؟ فوج کی طرف سے تیار کیے گئے منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے اگلے جمعہ کے روز ایک بار پھر اپنا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی اتوار کے روز لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے جنوبی لبنان میں ایک ٹھکانے پر حملہ کیا ہے۔ یاد رہے آسرائیلی ریاست کی اس لبنانی علاقے میں موجود فوج بھی جب چاہے جہاں چاہے بمباری اور ڈرون حملے کر دیتی ہے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق فوج کے شدید حملے کی تصدیق کی ہے۔ جس کے نتیجے میں حزب اللہ کا بھاری نقصان ہوا ہے۔