سعودی عرب میں سب سے زیادہ ضائع ہونے والی غذائی اشیا میں چاول، روٹی اور سبزیاں سرفہرست
الفارس نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا کہ "ہمیں گزشتہ مراحل کے مقابلے میں خوراک کے ضیاع میں کمی کی توقع ہے"
سعودی عرب میں جنرل فوڈ سیکورٹی اتھارٹی کے گورنر انجینئر احمد الفارس نے انکشاف کیا ہے کہ چاول، آٹا، روٹی، سرخ گوشت، مرغی، مچھلی، سبزیاں اور پھل مملکت میں سب سے زیادہ ضائع ہونے والی غذائی اشیا میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل صرف صارفین، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے تاکہ نعمت کا تحفظ ہو اور پائے دار غذائی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
انھوں نے توقع ظاہر کی کہ حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے صارفین کے اخراجات کے باوجود ملک میں خوراک کے ضیاع کی شرح میں نمایاں کمی آئے گی۔ یہ توقعات اس وقت مزید مضبوط ہوئیں جب اتھارٹی نے خوراک کے ضیاع کے حوالے سے دوسرا فیلڈ سروے مکمل کیا۔ اس کے نتائج رواں ماہ کے آخر میں "خوراک کے ضیاع کے تدارک کے عالمی دن" پر جاری کیے جائیں گے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں خوراک کے ضیاع سے سالانہ تقریباً 40 ارب ریال کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ ضائع ہونے والی خوراک کی شرح 33 فی صد سے زیادہ ہے۔ اسی پس منظر میں خوراک کے ضیاع کی روک تھام کے لیے سعودی عرب نے "لتدوم" کے نام سے ایک قومی پروگرام شروع کیا۔ پہلے سروے کے مطابق 2020 میں ضیاع کی شرح 33.1 فی صد تھی۔
فارس کے مطابق مذکورہ پروگرام کے دوسرے مرحلے میں آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں جنھیں حکومتی اور عوامی سطح پر مثبت رد عمل حاصل ہوا ہے۔ اس کا ہدف یہ ہے کہ 2030 تک خوراک کے ضیاع کو عالمی سطح کے مطابق کم کیا جائے۔ اس پروگرام کے ذریعے سعودی عرب اس مسئلے سے نمٹنے میں پیش قدمی کرنے والے اولین ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ "لتدوم" اب ایک جامع قومی حکمتِ عملی ہے، جس میں قانون سازی، ریگولیٹری اقدامات اور تمام متعلقہ اداروں کو یکجا کرنے کے لیے ایک قومی پورٹل شامل ہے۔
اتھارٹی اپنے پروگراموں کے ذریعے ایسی پائے دار غذائی پیداوار پر بھی کام کر رہی ہے جس سے مقامی سطح پر محفوظ اور متوازن خوراک دستیاب ہو، بیرونی ذرائع کی پائے دار فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور صحت مند غذائی عادات کو فروغ ملے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایک تہائی خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں کھربوں کھانے کے حصے برباد ہوتے ہیں جبکہ کروڑوں افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سعودی معاشرے میں مہمان نوازی کی روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں "نعمت بچانے" کی قومی کوششوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔