اسرائیل نے منگل کو ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور سکیورٹی حکام دوحہ میں حماس کے وفد پر حملے کے دوران کمان سنبھالے نظر آ رہے ہیں۔
یہ تصویر اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے "شاباک" نے جاری کی جس میں نیتن یاھو کے ساتھ وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور دیگر سکیورٹی رہنما موجود ہیں، جبکہ ایک اہلکار کے چہرے کو دھندلا دیا گیا ہے۔
تصویر میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری میجر جنرل رومان گوفمان، اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف زاحی پرافرمان اور قائم مقام سربراہ شاباک بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
اسی دوران اسرائیل نے تصدیق کی کہ اس نے دوحہ میں فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے کیے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ اس کارروائی کو "قمۃ النار" یعنی "آگ کی چوٹی" کا نام دیا گیا ہے۔
نیتن یاھو نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے دوحہ میں حماس کی قیادت کو مکمل طور پر "آزادانہ" انداز میں نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "آج کی کارروائی اسرائیلی منصوبہ بندی، اسرائیلی عملدرآمد اور اسرائیلی ذمہ داری کے تحت انجام دی گئی ہے"۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس طریقے سے کیا گیا، البتہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اشارہ دیا کہ یہ کارروائی اسرائیلی فضائیہ نے انجام دی۔
دوسری جانب دوحہ میں حماس کے وفد کی موجودہ صورتحال اور ان کے انجام کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس کا مذاکراتی وفد اسرائیلی حملے میں محفوظ رہا ہے تاہم اسرائیلی حکومت حماس کے قطر میں موجود متعدد سینیر رہ نماؤں کو قتل کرنے کا دعویٰ کررہا ہے۔