"قطر تنہا نہیں ہے۔ عرب اور اسلامی دنیا اس کے شانہ بشانہ ہے'': سربراہ عرب لیگ

اسرائیلی حملے کے تناظر میں عرب ممالک کا سربراہی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اتوار کو اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اس بات سے خبردار کیا کہ "جرم پر خاموشی۔۔ مزید جرائم کی راہ ہموار کرتی ہے۔"

دوحہ میں عرب اور اسلامی رہنماؤں کی ہنگامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ایک تیاری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ابو الغیط نے کہا، سربراہی اجلاس خود ایک طاقتور پیغام دیتا ہے: "قطر تنہا نہیں ہے، عرب اور اسلامی دنیا اس کے شانہ بشانہ ہے۔"

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے اقدامات "غزہ میں نسل کشی پر دو سال کی بین الاقوامی خاموشی کا براہِ راست نتیجہ ہیں جس نے قابضین کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ نتائج کی پرواہ نہ کریں۔"

یاد رہے کہ نو ستمبر 2025 کو اسرائیل نے ایک غیر معمولی فضائی حملے میں دوحہ میں حماس کے متعدد عہدیداروں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد قطر نے سربراہی اجلاس کا اہتمام کیا ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق پیر کو عرب اور اسلامی رہنماؤں کے اجلاس میں "ریاست قطر پر اسرائیلی حملے سے متعلق ایک مسودہ قرارداد" پر غور کیا جائے گا۔

اسی تیاری کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ "دہرے معیار اخیتار کرنا بند کرے" اور اسرائیل کو اس کے "جرائم" کی سزا دے۔

"اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری دوہرا معیار ترک کر دے اور اسرائیل کو ان تمام جرائم کی سزا دی جائے جو اس نے کیے ہیں اور وہ یہ جان لے کہ ہمارے برادر فلسطینی عوام کو جس تباہی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جس کا مقصد انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے، جاری نہیں رہے گی،" شیخ محمد نے کہا جو وزیرِ خارجہ بھی ہیں۔

اگرچہ اسرائیلی حملے میں حماس کے امن مذاکرات کار بچ گئے جو اس کا اصل ہدف تھے لیکن یہ غیر مناسب اور غیر اخلاقی اقدام "بذاتِ خود ثالثی کے اصول پر حملے" کی نمائندگی کرتا ہے۔

شیخ محمد نے کہا، اس حملے کو "صرف ریاستی دہشت گردی قرار دیا جا سکتا ہے جو موجودہ انتہا پسند اسرائیلی حکومت نے اختیار کر رکھی ہے اور جو بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑاتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "اس بے حس اور ظالمانہ اسرائیلی جارحیت کا ارتکاب اس وقت کیا گیا جب قطر کی ریاست غزہ جنگ بندی کے لیے سرکاری اور عوامی مذاکرات کی میزبانی کر رہی تھی جس کا ازخود اسرائیلی فریق کو علم تھا"۔

سربراہی اجلاس سے پہلے مصری وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان میں اپنے ہم منصبوں سے فون پر مشاورت کی۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بات چیت بحران کا جائزہ لینے اور "خطے کو درپیش شدید سیاسی اور سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے طریقوں پر مرکوز رہی۔"

وزراء نے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور خطے میں استحکام کے لیے عرب اسلامی اتحاد اور سیاسی، سفارتی اور اقتصادی شعبوں میں پائیدار ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔

شرکت کرنے والے رہنماؤں میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور عراقی وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی بھی شامل ہوں گے۔

فلسطینی صدر محمود عباس اتوار کو دوحہ پہنچے۔

ترک میڈیا کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوان کی شرکت بھی متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں