اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ جلد ہی ایک نئی تجویز پیش کرنے والی ہے، جس کا مقصد غزہ میں مزاحمتی تنظیموں کے ہاں اسرائیلی قیدیوں سے متعلق مذاکرات کے جمود کو توڑنا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیلی اور قطری حکام کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کرنے والی ہے تاکہ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر معطل مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
واشنگٹن میں اختتامِ ہفتہ قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے نائب، وزیرِ خارجہ اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے اندرونی تفصیلات سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ ملاقاتوں میں امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے مناسب راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔
اخبار کے مطابق واشنگٹن نے اس نئی کوشش کے ضمن میں اسرائیلی قیادت کے ساتھ براہِ راست بات چیت بھی کی ہے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، اتوار کو اسرائیل پہنچے۔ توقع کی جا رہی ہے روبیو اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقات کر کے مذاکرات کی بحالی کی شرائط پر بات چیت کریں گے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ روبیو کا اسرائیل کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اتحاد اور دوستی کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو قطر پر اسرائیل کے غیر معمولی حملوں پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا، تاہم اسرائیل روانگی سے قبل ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں روبیو نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ اس حملے سے خوش نہیں ہیں، لیکن یہ اختلاف ہماری اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو تبدیل نہیں کرے گا۔
اسرائیلی حملے نے واشنگٹن کے اس خطے میں اہم اتحادی ملک، دوحہ، کو چراغ پا کیا جب کہ اس کارروائی کی مذمت علاقائی اور عالمی سطح پر بھی کی گئی۔
اسرائیلی حملے نے جنگ بندی کی کوششوں اور غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے عمل کو بھی متاثر کیا ہے۔ قطر چونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے اس پیش رفت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ دریں اثنا، حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ حملے میں محفوظ رہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اسرائیل کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کی حوالے سے بتایا ہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں 1219 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔
دوسری جانب حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت نے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔جس کے مطابق اسرائیل نے جواباً غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیاں کیں، جن میں اب تک کم از کم 64 ہزار 871 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اب بھی 47 قیدی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ قیدی اُن 251 افراد میں شامل ہیں جنہیں حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔