یورپ کا اسرائیل سے غزہ پر حملہ فوری طور پر روک دینے کا مطالبہ

اسرائیل کا غزہ شہر پر حملہ مزید تباہی اور ہلاکتوں کا سبب بنے گا : یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فوج نے غزہ میں فیصلہ کن کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس کے بعد شہر سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہجرت جاری ہے اور اس دوران بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یورپی یونین کے ترجمان انور العنونی نے کہا کہ اسرائیل کا غزہ شہر پر حملہ مزید تباہی اور جانی نقصان کا سبب بنے گا۔ انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ یورپی یونین اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غزہ پر حملہ فوری طور پر بند کرے۔ العنونی نے فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کی اور بتایا کہ یورپی یونین اگلے ہفتے نیویارک میں سعودی عرب، فرانس اور ناروے کی شرکت کے ساتھ عالمی اتحاد کا اجلاس منعقد کرے گی تا کہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

العنونی نے غزہ کی صورت حال کو بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی ذمے داریوں کے دائرے میں بتایا۔ یورپی یونین نے دو ریاستی حل اور مشرق وسطیٰ میں پائے دار امن کی کوششوں کا خیر مقدم بھی کیا۔

برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کپر نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل کا نیا حملہ انتہائی غیر ذمے دار اور خوف ناک ہے۔ انھوں نے "ایکس" (X) پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ حملہ صرف مزید خون ریزی، بے گناہ شہریوں کی ہلاکت اور قیدیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فوری جنگ بندی، تمام قیدیوں کی رہائی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور مستقل امن کی راہ ضروری ہے۔

یہ تنقید کہ لہر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوجی ذرائع نے اعلان کیا کہ غزہ شہر پر زمینی کارروائی شروع ہو گئی ہے، تاہم ساتھ واضح کیا کہ پیش قدمی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ذرائع نے کہا کہ اسرائیلی ٹینک اب تک شہر کے مرکز تک نہیں پہنچے اور نہ اہم علاقوں پر قابض ہوئے ہیں۔ بتایا گیا کہ اس کارروائی میں دو جنگی بریگیڈز شریک ہیں اور بعد میں تیسرا بریگیڈ شامل ہو گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "ہم نے غزہ میں ایک بڑی اور فیصلہ کن فوجی کارروائی شروع کر دی ہے"۔
ادھر فلسطینی شہری جنوب کی جانب ہجرت کر رہے ہیں حالانکہ وہاں بھی محفوظ پناہ گاہیں دستیاب نہیں، یہ بات العربیہ کے نامہ نگار نے بتائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں