ایپ کے ذریعے اساتذہ کی حاضری کا نظام بیک فائر کر گیا
اساتذہ کی کسی بھی تاخیر کو نوٹ کیا جاتا ہے اور معلمین کا سات گھنٹے کام پر رہنا لازمی قرار دیا گیا ہے
سعودی وزارتِ تعلیم کی جانب سے حاضری اور چھٹی کو الیکٹرانک طور پر ریکارڈ کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی "حاضری" ایپلی کیشن کے تحت اساتذہ کو طلبہ کے جانے کے بعد دوپہر ڈیڑھ بجے تک سکول میں موجود رہنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس نے کچھ اساتذہ میں ناخوش گواری پیدا کر دی۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے رائے لینے پر اساتذہ نے بتایا کہ اس اضافی پابندی نے ان کے روزمرہ کے کام میں مزید ذمہ داریاں شامل کر دی ہیں۔
"حاضری" ایپلیکیشن کا مقصد حاضری اور رخصتی کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے، جس میں ہر استاد کی موجودگی کے لیے جی پی ایس اور انسانی شناخت کی ٹیکنالوجی (بائیو میٹرک) استعمال کی جاتی ہے تاکہ درستی یقینی بنائی جا سکے اور روزمرہ کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ سرکاری کام کے اوقات سات گھنٹے پر مشتمل ہیں، جو صبح سوا چھ بجے سے دوپہر سوا ایک بجے تک جاری رہتے ہیں۔
تاخیر کی مانیٹرنگ
یہ نظام اساتذہ کی کسی بھی تاخیر کو ریکارڈ کرتا ہے، اور تاخیر کے دن تنخواہ سے پیسے کاٹ لیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی استاد صبح 45 :6 بجے کے بعد سکول پہنچے تو انہیں سسٹم میں لیٹ انٹری مارک کیا جاتا ہے۔
"حاضری" ایپلیکیشن کے نفاذ کے بعد کچھ اساتذہ نے شکایت کی کہ یہ نظام انہیں طلبہ کے جانے کے بعد بھی دوپہر کے اوقات تک، حتیٰ کہ 30 :1 بجے تک سکول میں رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
سات گھنٹے ڈیوٹی
سعودی عرب میں حاضری" ایپلیکیشن، کا نفاذ کل سے شروع ہو چکا ہے، جو تعلیمی اداروں میں تمام تدریسی عملے کو سات گھنٹے سکول میں رہنے کا پابند بناتی ہے، چاہے طلبہ کے شیڈول یا کلاسز کی تعداد کچھ بھی ہو۔
تاہم، اس کے اعلان کے فوراً بعد ہی بعض اساتذہ اس نظام کی خرابی سے حیران رہ گئے، جو ان کی حاضری کو ریکارڈ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
پرائمری سکول میں ریاضی کے استاد عبداللہ الموسی نے "حاضری" ایپلیکیشن کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کام کے اوقات سات گھنٹے مقرر کر دیے ہیں، حتیٰ کہ ان دنوں میں بھی جب اساتذہ معمول کے مطابق کلاسز ختم ہونے کے بعد جلدی سکول چھوڑ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایپلیکیشن ایک اضافی ذمہ داری پیدا کرتی ہے جو سرکاری قواعد میں موجود نہیں۔
ابتدائی جماعت کے استاد سعد القحطانی کا کہنا ہے کہ استاد کا کام براہِ راست طلبہ کی موجودگی سے جڑا ہوتا ہے، اور وہ سوال کرتے ہیں: "ہمیں دوپہر ڈیڑھ بجے تک سکول میں رہنے کا کیا فائدہ؟" انہوں نے مزید کہا: "ہم دفتر کے ملازمین نہیں ہیں، ہمارا کام تدریس اور طلبہ کے ساتھ رابطے سے وابستہ ہے۔"
ابتدائی جماعت کی معلمہ نورۃ الحربی نے ایپلیکیشن کے حوالے سے رہنمائی دستاویز کی وضاحت پر سوال اٹھایا اور کہا: "یا تو رہنمائی دستاویز کو حاضری ایپلیکیشن کے مطابق ترمیم کیا جائے یا نظام کو دوبارہ پروگرام کیا جائے تاکہ وہ سرکاری قواعد کے مطابق ہو۔" انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی ترمیم نہ کی گئی تو اس سے الجھن میں اضافہ اور اعتماد کا نقصان ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس، وزارتِ تعلیم نے تصدیق کی ہے کہ اساتذہ کا رسمی کام سات گھنٹے مسلسل ہے، جو صبح سو اچھ بجے سے دوپہرسوا ایک بجے تک جاری رہتا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ "حاضری" نظام جمع شدہ تاخیر کو ریکارڈ کرتا ہے اور سات گھنٹے کی غیر حاضری تک پہنچنے پر پورے دن کی تنخواہ کٹوتی کی جاتی ہے۔
-
سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور ترکیہ کی پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت
پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 19 سپاہیوں کی شہادت کے واقعے پر ...
پاكستان -
جی سی سی، عرب ۔ اسلامی سمٹ کے نتائج پر سعودی عرب کا اظہار اطمینان
سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے خلیج تعاون کونسل کے ...
مشرق وسطی -
عالمی سیاحت کے رجحانات میں تبدیلی .... سعودی عرب نمایاں ترین مستفید ممالک میں
سال 2019 کے مقابلے میں امریکہ 1.3 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کو کھونے جا رہا ہے
بين الاقوامى