امریکہ کو 2025 میں بین الاقوامی سیاحت سے حاصل آمدنی میں تقریباً 30 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔
اس کی وجہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کمی ہے جو سیاسی و معاشی عوامل خاص طور پر ڈالر کی طاقت اور داخلی سیاسی ماحول سے جڑی ہے۔ ان حالات نے مسافروں کو زیادہ پُر کشش اور مستحکم متبادل مقامات کی تلاش پر مجبور کیا ہے۔
اس سے قبل امریکن ٹریول ایسوسی ایشن کی پیش گوئی تھی کہ غیر ملکی سیاحت پر خرچ بڑھ کر اس سال 200.8 ارب ڈالر تک پہنچے گا، مگر مئی میں ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کی ایک رپورٹ نے واضح کیا کہ سیاحوں کی تعداد میں بڑی کمی متوقع ہے۔ اس کے نتیجے میں خرچ کم ہو کر صرف 169 ارب ڈالر رہ جائے گا۔ یہ اعداد و شمار سی این بی سی کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جسے العربیہ بزنس نے دیکھا۔
ٹورزم اکنامکس کے مطابق امریکہ نے سال کی پہلی شش ماہی میں 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں دس لاکھ کم بین الاقوامی سیاحوں کو خوش آمدید کہا۔ سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو امریکا 2019 کے مقابلے میں 1 کروڑ 30 لاکھ بین الاقوامی سیاحوں کے نقصان کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سعودی عرب کی بڑھتی کشش
دوسری جانب کئی ممالک میں سیاحت کا نمایاں عروج دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً سعودی عرب میں جو 2019 کے مقابلے میں 1 کروڑ 45 لاکھ اضافی سیاحوں کی آمد کی راہ پر ہے۔ اس کے علاوہ اسپین (1 کروڑ 65 لاکھ) اور ترکیہ (1 کروڑ 40 لاکھ) بھی نمایاں اضافے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، جو دنیا بھر میں سفر کے رجحانات کی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں "ویژن 2030" کے تحت سیاحت کے شعبے کی ترقی پر بھرپور توجہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے مسافروں کے لیے پسندیدہ منزل بنتا جا رہا ہے۔ اس کا سیاسی استحکام، ثقافتی تنوع اور بڑے منصوبے جیسے "نیوم" اور "بحیرہ احمر" اسے مزید پر کشش بناتے ہیں۔
عالمی بکنگ کمپنیوں کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں سیاحتی بکنگز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر مغربی یورپ اور ایشیائی ممالک سے۔ اس کے برعکس امریکہ کی عالمی سیاحتی مارکیٹ میں حصے داری جو 1996 میں 8.4 فی صد تھی وہ کم ہو کر 2025 میں محض 4.2 فی صد رہ گئی ہے۔