غزہ میں نسل کشی: فوجداری عدالت اورعدالت انصاف کااسرائیل اورنیتن یاہوکےخلاف فیصلہ کیا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کی رپورٹ میں یہ بات کہ 'اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے' تحقیق شدہ قرار دی جانے کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ اگر قانون اپنا راستہ لیتا ہے تو اسرائیل اور اس کے حکومتی عہدے داروں اور فوجی حکام کو آنے والے دنوں میں کس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا ہوگا ۔ مطلب یہ کہ انہیں کیا بھگتنا ہو گا اور انہیں کس طرح کے عدالتی فیصلے کی زد میں آنا ہو گا۔

عالمی عدالتیں کن امور کو دیکھتی ہیں ؟


ہیگ میں قائم ان دونوں بین الاقوامی عدالتوں ' عدالت انصاف اور فوجداری عدالت' کو عام طور پر ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے۔ یقینا اس صورت میں دونوں کے دائرہ کار اور دائرہ اختیار کے بارے میں بھی الجھاؤ سا پیدا ہو جاتا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کس نوعیت کے مقدمات کو دیکھتی ہے اور کن فریقوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ جبکہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے کام اور اختیارات کا فوجداری عدالت سے کیا فرق ہے۔ آئیے ان کے باہمی فرق کو دیکھتے ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت

یہ عالمی عدالتی فورم 2002 میں قائم کیا گیا ہے۔ تاکہ ایسے افراد کے خلاف مقدمات بھی چلائے جا سکیں جو انسانیت کے خلاف بد ترین جرائم میں ملوث ہوں، انفرادی سطح پر ان کا کردار جنگی جرائم کے حوالے سے رہا ہو یا انہوں نے نسل کشی کے جرائم میں حصہ لیا ہو۔

بین الاقوامی عدالت انصاف

یہ عالمی عدالتی فورم فوجداری عدالت کے مقابلے میں بہت زیادہ پرانی ہے۔ اس کا قیام 1948 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا کام ریاستوں کے درمیان پیدا ہو جانے والے تنازعات کو سننا ہے۔ ایک ریاست پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے لگائے گئے دوسری ریاست کے الزام کی سماعت کرتی ہے اور فیصلہ صادر کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ بین الاقوامی معاہدوں کے توڑنے اور ان کے خلاف دائر کردہ درخواستوں کو سنتی ہے۔

یو این رپورٹ کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟

اقوام متحدہ کے آزاد انکوائری کمیشن ' کمیشن آف انکوائری ' جو اس عالمی ادارے کی طرف بات نہیں کرتا بلکہ اپنی تحقیقات کی بنیاد پر رپورٹ جاری کرتا اور بولتا ہے۔ گویا اس کا کام بلا تحقیق بات کرنے کا ہرگز نہیں ہے۔ اب اسی کمیشن آف انکوائری نے غزہ کے بارے میں اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران نسل کشی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ یہ بات کمیشن کی سربراہ ناوی پیلے نے ' اے ایف پی ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

سربراہ نے تحقیقات کے بعد کہا ' میری ٹیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کے ساتھ اطلاعات کے ہزاروں واقعات اور اطلاعات کی شکل میں حصے شیئر کیے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم میں بین الاقوامی قانون کے ماہر اور نسل کشی سے متعلق علوم اور تاریخ پر عبور رکھنے والے پروفیسر تھیجس بووکنیٹ نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بارے میں کہا ' دونوں بین الاقوامی عدالتیں اس رپورٹ کو متعدد ثبوتوں کے ساتھ دیکھیں اور پرکھیں گی۔ '

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اگر وہ ایک تفتیش کار ہوتے تو وہ رپورٹ کو دیکھتے اور اسے دوسرے بہت سے ذرائع اطلاعات کے ساتھ ایک ذرہعے کے طور پر استعمال کرتے۔ کیونکہ ان کے بقول یہ رپورٹ سیاسی کارروائی کا ایک مطالبہ بھی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ کے اثر انداز ہونے کے لیے، آپ لوگوں کو اس کے ساتھ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک سیاسی ادارہ ہے۔

یہ ریاستی وزراء یا حکومتی رہنماؤں کے لیے ہے کہ وہ رپورٹ کے ساتھ کچھ کریں اگر وہ غزہ میں کچھ تبدیلی کرنے کو ضروری محسوس کرتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

بین الاقوامی فوجداری عدالت پچھلے سال کے وسط سے اسرائیلی ریاست کی غزہ جنگ کے سلسلے میں اس کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے ساتھ کچھ عرصہ پہلے تک بطور وزیر دفاع غزہ جنگ کی نگرانی کرنے والے یوو گیلنٹ کے جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔ ان دونوں پر الزامات ہیں کہ یہ غزہ کے لوگوں پر بھوک اور قحط مسلط کرنے کے علاوہ بھی انہیں ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم عدالت ابھی تک ان میں کسی کو بھی کٹہرے میں نہیں لا سکی ہے۔ یاد رہے اب تک غزہ میں اسرائیلی ریاست نیتن یاہو کے زیر قیادت تقریبا 65 ہزار فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے فلسطینیوں کے تین سینیئر رہنماؤں کے بھی وارنٹ جاری کیے تھے۔ ان تینوں کو بھی اسرائیلی ریاست کی فوج مختلف جگہوں پر موساد کی مدد سے قتل کر چکی ہے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے 1948 کے بین الاقوامی یو این نسل کشی کنونشن کے تحت اسرائیل کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔

اس درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے مختلف قسم کے احکامات جاری کیے۔ ان میں سے ایک حکم رفح میں جنگی کارروائیاں روکنے کا اسرائیل کو حکم دیا۔ نیز بلا روک ٹوک غزہ میں امداد کی ترسیل ممکن بنانے کا حکم دیا۔

تاہم ان احکامات کے جاری کرنے کے ساتھ ہی امریکہ کی طرف سے اس بین الاقوامی فوج داری عدالت کو دباؤ اور پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب اب تک بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کے خلاف وسیع پیمانے پر کسی کارروائی پر غور شروع نہیں کیا ہے۔ حتی کہ یہ دیکھنا بھی ابھی اس کی طرف سے شروع نہیں کیا گیا کہ آیا اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے یا نہیں۔ خدشہ ہے کہ اس طرف بڑھنے میں عدالت کو کئی ماہ یا کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔

اب آگے کیا ہوسکتا ہے؟

بین الاقوامی فوجداری عدالت اس وقت اپنے دائرہ اختیار کو اسرائیل کی طرف سے چیلنج کیے جانے کا جائزہ لے رہی ہے۔

نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بین الاقوامی عدالت کی اس سلسلے میں عملی کارروائی کا بڑا انحصار اس کے 125 دستخط کنندگان یعنی رکن ممالک پر ہے کہ وہ اپنی سرحدات میں مطلوب ملزمان نیتن یاہو وغیرہ کو گرفتار کرتی ہیں یا نہیں۔

اسی طرح جب تک اسرائیل نیتن یاہو کو ہیگ میں عدالت کے حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ نیتن یاہو کے عدالتی کٹہرے میں آنے کا امکان نہیں ہے۔ کیونکہ فوجداری عدالت غیر حاضری میں کسی کا ٹرائل نہیں کر سکتی۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے مطابق اسرائیل کے پاس جنوری 2026 تک کا وقت ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کے کیس کا تحریری جواب دائر کرے۔ اس کے بعد بھی مزید قانونی پیچیدگیوں کا امکان باقی ہو سکتا ہے۔

عدالت کو دونوں اطراف کے ممکنہ اعتراضات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔

فیصلے میں مزید کتنا وقت لگے گا ؟

فوجداری عدالت کے دائرہ کار کو بھی چیلنج کیے جانے کا ایک مرحلہ آ سکتا ہے۔ اس فیصلے کے لیے بھی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔ اس لیے مبصرین اور ماہرین 2027 سے پہلے اسرائیل کے خلاف عدالتی کارروائی شروع ہونے کا امکان کم ہی دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں