"جس کسی کے پاس موبائل فون ہے وہ اسرائیل کا ایک ٹکڑا رکھتا ہے" ... نیتن یاہو نے یہ کیوں کہا

مصری ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کا بیان اپنے اندر خطرناک تزویراتی پہلو رکھتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک متنازعہ بیان میں کہا "آپ لوگوں کے پاس موبائل فونز ہیں؟ آپ اپنے ہاتھ میں اسرائیل کا ایک ٹکڑا رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے کہ بہت سے فونوں کا ذریعہ اسرائیل ہے"۔

نیتن یاہو نے نے امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات میں اسرائیل کی دواؤں، ہتھیاروں اور فون بنانے کی صلاحیت کی تعریف کو سراہا اور امریکیوں کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل سے حاصل ہونے والے فوائد کو سمجھیں۔

مصری ماہرین نے اس بیان کو صرف اقتصادی یا سفارتی تفاخر نہیں سمجھا بلکہ اسے سنگین تزویراتی خطرات کا حامل قرار دیا ... ایسے خطرات جو قومی سلامتی، سائبر سیکیورٹی اور بین الاقوامی اقتصادی تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد محسن رمضان مصر کے العرب ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل نے عالمی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے میں گہرائی سے اثر ڈال رکھا ہے۔ سیاسی لحاظ سے یہ بیان اسرائیل کی ٹیکنالوجیکل طاقت کے طور پر شناخت قائم کرنے کی کوشش ہے جو افراد اور ممالک کی زندگیوں میں بالواسطہ اثر ڈالتی ہے۔ سماجی طور پر یہ عوام میں خوف پیدا کر سکتا ہے کہ روزمرہ کے آلات جاسوسی یا کنٹرول کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر رمضان نے کہا کہ اسرائیل دنیا میں الیکٹرونک چپ اور مائیکرو پروسیسر بنانے کے اہم مراکز میں شامل ہے۔ اگر فونز میں اسرائیلی سافٹ ویئر یا ہارڈویئر ہو تو یہ پروگرامنگ یا ہارڈویئر بیک ڈور کے خطرات پیدا کر سکتا ہے، جس سے صارفین کی نگرانی، ڈیٹا کا حصول یا بحران کے وقت آلات کی غیر فعال کاری ممکن ہو سکتی ہے۔

سابق مصری نائب وزیر داخلہ محمود الرشیدی نے کہا کہ قومی سلامتی شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت سے شروع ہوتی ہے اور کسی خارجی قوت کے پاس تکنیکی رسائی ہونا داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کا بیان ایک چھپی ہوئی دھمکی کے مترادف ہے کہ اسرائیل حساس سیکٹر پر قابو رکھتا ہے۔

الرشیدی نے وضاحت کی کہ آج موبائل فونز صارفین کی ڈیجیٹل شناخت کے لیے اہم ہیں، جس میں بینک اکاؤنٹس، رابطے، تصاویر، جغرافیائی معلومات اور حساس ڈیٹا شامل ہیں اور اسرائیلی کنٹرول کسی بھی حصے پر موجودگی کے ساتھ ہر ملک کو سائبر حملوں کا ہدف بنا سکتا ہے۔

انھوں نے لبنان میں پیجر ڈیوائسز کے دھماکوں کی مثال دی، جو تکنیکی خلا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا عملی نمونہ ہے۔ ان کے مطابق وہ ممالک جو اسرائیلی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں، بحران کے دوران ٹیکنالوجی کے یرغمال بن سکتے ہیں اور اگر یہ کنٹرول مواصلات، بینکنگ یا دفاعی نظام تک پھیلے تو خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اقتصادی نقطہ نظر سے نیتن یاہو کی کوشش کے برعکس، بیان منفی اثر ڈال سکتا ہے کیونکہ دیگر ممالک اور کمپنیوں کے لیے اسرائیلی ٹیکنالوجی پر اعتماد کم ہو سکتا ہے جس سے مصنوعات کی مانگ متاثر ہو سکتی ہے۔

الرشیدی نے سفارش کی کہ ممالک کو تکنیکی صنعتیں مقامی طور پر تیار کرنی چاہئیں، فونز اور مواصلاتی آلات کی سیکیورٹی کا جائزہ لینا چاہیے، درآمد کے ذرائع متنوع کرنے چاہئیں اور عرب و علاقائی تعاون کے ذریعے ایک مشترکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قائم کرنا چاہیے تاکہ اسرائیل یا دیگر ممالک پر انحصار کم ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں