اقوام متحدہ نے صدر محمود عباس کو ویڈیو لنک سے خطاب کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعہ کو فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ دنوں عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دے دی۔ یہ فیصلہ 145 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا۔ 5 ملکوں نے مخالفت کی اور 6 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یاد رہے امریکہ نے محمود عباس کو نیویارک کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد یہ متبادل انتظام کیا گیا۔

تقریباً 140 سے زیادہ ملکوں کے سربراہان نیویارک میں جمع ہوں گے اور اجلاس میں فلسطین اور غزہ کے مستقبل پر بحث غالب رہے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بہت سی یورپی ریاستوں کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا یہ اقدام اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ایک علامتی مگر مؤثر کوشش ہو سکتی ہے۔

غزہ کے تباہ حال اور محصور علاقے میں انسانی المیہ کی صورت حال ہے۔ سعودی عرب اور فرانس پیر سے شروع ہونے والے اجلاسوں کی صدارت کریں گے جن کا مقصد دو ریاستی حل کے مستقبل پر غور کرنا ہے تاکہ ایک اسرائیلی اور ایک فلسطینی ریاست امن کے ساتھ ساتھ رہ سکیں۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی تھی جو فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہے لیکن اس میں حماس شامل نہیں تھی۔ اس کے بعد توقع ہے کہ کئی ممالک، خاص طور پر فرانس، باضابطہ طور پر فلسطین کو تسلیم کریں گے۔

بین الاقوامی کرائسس گروپ کے تجزیہ کار رچرڈ گوان نے اس اقدام کو ایک "علامتی" قدم قرار دیا جس کی حقیقی اہمیت اس وقت ہوگی جب وہ ممالک جو فلسطین کو تسلیم کرتے ہیں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اضافی اقدامات کریں گے تاکہ وہ غزہ میں جاری اپنی فوجی کارروائی بھی ختم کر دے۔ گوان نے اسرائیلی ردعمل اور وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے کشیدگی میں اضافے کے خطرے سے بھی خبردار کیا جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے دورِ اقتدار میں کبھی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی۔

امریکہ، جو اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے، نے فلسطین کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے اور صدر محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی وفد کو ویزے دینے سے انکار کیا ہے۔ تمام نگاہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز ہیں جنہوں نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد متعدد صدارتی احکامات جاری کیے جن کے تحت امریکی غیر ملکی امداد میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی گئی۔

اس کٹوتی سے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کام بری طرح متاثر ہوا۔ اس دوران انسانی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گہری مالیاتی بحران اور بھڑکتی ہوئی جنگوں کے دوران اقوام متحدہ نے اپنی 80 ویں سالگرہ خاموشی سے منائی جبکہ اپنی افادیت پر ہونے والی تنقیدوں کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

وجودی خطرہ

ہیومن رائٹس واچ کے عہدیدار فیدریکو بورِیلو نے کہا ہے کہ ان دنوں کثیر جہتی نظام ایک وجودی خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک، جن میں سلامتی کونسل کے مستقل رکن بھی شامل ہیں، بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہیں یا ان میں شریک ہوتے ہیں تو معیار کمزور ہو جاتے ہیں۔ غزہ، یوکرین اور دیگر مقامات پر ایسا ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوتیرش نے غزہ، یوکرین، سوڈان اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے فوری اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ ایسے جوابات اور اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ہماری دنیا کو درپیش چیلنجز کی سنگینی کے مطابق ہوں۔ یہ ایسے اقدامات ہوں جو ان سب کی توقعات پر پورا اتریں جو باہر سے دیکھ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں