شام کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت، لیکن فائنل ڈیل ابھی دور: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دمشق کی طرف سے مذاکرات کے جاری رہنے اور جلد ممکنہ معاہدے کے امکانات کی تصدیق کے بعد، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں اعتراف کیا کہ شامی حکام کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

معاہدہ ابھی بھی دور

نیتن یاہو نے کہا کہ "اسرائیل کی حزب اللہ کے حوالے سے کامیابیوں نے ایک نئی ممکنہ راہ کھولی ہے، جو پہلے کبھی تصور نہیں کی گئی تھی، یعنی شمالی ہمسایوں کے ساتھ امن کے امکانات"، جس میں وہ شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل کی طرف سے "شامی حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں"، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ "کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن معاہدہ ابھی بھی دور ہے"، جیسا کہ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، یہ بیان اس ملاقات کے بعد آیا جس میں وزیرِ سٹریٹجک امور رون ڈرمر اور شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی گزشتہ بدھ کو لندن میں شریک ہوئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ مذاکرات کا ہدف 1974 میں شام اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فوجی علیحدگی اور تصادم کے معاہدے کی جگہ نیا معاہدہ لانا ہے۔

جبل الشیخ اور فضائی بالادستی

المجلہ کی رپورٹ کے مطابق، اس ممکنہ معاہدے یا مذاکرات کے ابتدائی خاکے میں تل ابیب جبل الشیخ اور اس کے اطراف میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے، علاقے کو وسیع کرنے، تین غیر مسلح زون قائم کرنے، دمشق تک سکیورٹی انتظامات نافذ کرنے اور جنوب میں فضائی کنٹرول برقرار رکھنے کا منصوبہ شامل ہے۔

اسرائیلی حکام ایران تک رسائی کے لیے عراق کی سرحد تک ہوائی راستہ چاہتے ہیں، گولان پر مکمل حق واگذاری کا مطالبہ بھی شامل ہے، اور وہ بعض علاقوں سے فوجی انخلا کے لیے بھی آمادہ ہیں۔

جبکہ دمشق 1974 کے فوجی علیحدگی کے معاہدے کو فعال رکھنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ 8 دسمبر 2024 کو سابقہ نظام کے زوال کے بعد زیر قبضہ زمینوں سے دستبردار ہو۔

تاہم شامی کیجانب سے ایک نئے سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی ہےم جو اسرائیل کی سلامتی اور شام کی خودمختاری کا احترام کرے، اور گولان کی پہاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور تعلقات کی بحالی سے جوڑے۔

شام اور اسرائیل عملی طور پر 1948 کے بعد سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی حالت میں ہیں، تاہم وقتاً فوقتاً مختصر عرصے کے لیے امن قائم رہا ہے۔

1974 کی سیزفائر کو توڑتے ہوئے اسرائیل نے گزشتہ 8 دسمبر سے غیر مسلح علاقے میں مسلسل پیش رفت کی، اس دوران شامی اپوزیشن نے بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔

اسرائیل نے شامی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے اور اپنی افواج کو دمشق سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے تک لے آیا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں