شامی وزیر خارجہ اسعد الشبیانی کا امریکہ میں تاریخی دورہ
شامی عوام کی آواز کانگریس تک پہنچا دی، امریکی تعاون پر اظہار تشکر
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اتوار کو اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر ایک تصویر جاری کرتے ہوئے امریکی خصوصی ایلچی ٹام براك کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفد کے واشنگٹن دورے میں ٹام براك کی معاونت قابل قدر ہے، اس موقعے پر شامی عوام کی آواز کانگریس اور وزارت خارجہ تک پہنچائی گئی اور شامی پرچم سفارت خانے پر لہرایا گیا۔
الشيباني نے اپنے بیان میں کہا کہ "سوریہ ہمیشہ بہترین کا مستحق ہے۔"
وزير الخارجية السوري: نشكر مبعوث #أميركا الخاص لـ #سوريا على دعمه لزيارتنا لواشنطن #قناة_العربية pic.twitter.com/IbD8IwhYxe
— العربية (@AlArabiya) September 20, 2025
دوسری جانب امریکی ریپبلکن رکن کانگریس جو ولسن نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ "شامی عوام آزادی حاصل کر چکے ہیں اور اب قیصر قانون کو ختم کیا جانا چاہیے۔ ہم ایک متحد اور خودمختار شام دیکھنے کے خواہاں ہیں کیونکہ تقسیم کی صورت میں داعش اور شدت پسندی کے دروازے کھلیں گے۔"
یہ دورہ گزشتہ پچیس برسوں میں کسی بھی شامی وزیر خارجہ کا امریکہ کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل دسمبر 1999 میں اس وقت کے وزیر خارجہ فاروق الشرع نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے واشنگٹن کا سفر کیا تھا۔
واشنگٹن میں جمعرات کے روز الشیبانی نے امریکی وزارت خزانہ کے متعدد حکام سے ملاقات کی جس میں ایلچی براك بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں شامی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں جوڑنے کے امکانات اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔
شامی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ رابطے وزیر خارجہ کے تاریخی امریکی دورے کا حصہ ہیں جس کا مقصد وسیع البنیاد مذاکرات کرنا ہے۔
یاد رہے کہ شام اس وقت قیصر قانون کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک امریکی تعزیری قانون ہے جو جون 2020ء میں نافذ ہوا تھا اور سابق صدر بشار الاسد کے نظام کے ساتھ ساتھ ان تمام اداروں کو نشانہ بناتا ہے جو توانائی، تعمیرات اور مالیات جیسے شعبوں میں اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وقتی طور پر کچھ استثنیات دی تھیں، تاہم ان پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔