حزب اللہ کے چیلنج کے بعد... اراکین پارلیمان کا وزیر اعظم سے اظہار یکجہتی، فوج پُر عزم

ایک لبنانی ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ وزیر اعظم نواف سلام اس بات پر مصر ہیں کہ سیکیورٹی ادارے ضروری اقدامات کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بیروت کے معروف قدرتی سیاحتی مقام "صخرة الروشہ" پر سرکاری طور پر کسی قسم کے نعرے یا روشنی ڈالنے پر پابندی کے باوجود، حزب اللہ کے حامیوں نے جمعرات کی شب وہاں اجتماع کیا اور اس چٹان کو جماعت کے سابق سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصاویر سے روشن کر دیا۔ دونوں رہنماؤں کو اسرائیل نے گزشتہ برس قتل کر دیا تھا۔

لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے ریاست کے خلاف چیلنج قرار دیا۔ انھوں نے "ایکس" پر لکھا کہ الروشہ کے علاقے میں جو کچھ ہوا وہ گورنر بیروت کی جانب سے دیے گئے اجازت نامے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس میں واضح طور پر درج تھا کہ چٹان پر کسی بھی صورت روشنی نہیں ڈالی جائے گی اور نہ اس پر کوئی تصویری مواد دکھایا جائے گا۔

آج ایک لبنانی ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ وزیراعظم سلام اصرار کر رہے ہیں کہ سیکیورٹی ادارے ضروری کارروائی کریں کیونکہ حزب اللہ نے طے شدہ شرائط کی پاسداری نہیں کی۔ اسی مقصد کے لیے بعض اراکین پارلیمنٹ بھی ان کے گھر جا پہنچے تاکہ ان کے موقف کی حمایت کر سکیں۔

لبنانی وزیر دفاع جنرل میشال منسی نے بھی کہا کہ فوج کا بنیادی کردار فتنہ روکنا اور امن قائم رکھنا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فوج کسی کو بھی امن بگاڑنے نہیں دے گی اور نہ اپنے خلاف مہم قبول کرے گی۔

نواف سلام نے مزید بتایا کہ انھوں نے وزرائے داخلہ، انصاف اور دفاع سے بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ مناسب کارروائی کریں، یہاں تک کہ ذمے داروں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق سزا ملے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ منتظمین کے واضح وعدوں کی خلاف ورزی اور ریاستی اداروں کے مقابلے میں ایک نئی "لغزش" ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے خلاف مہم شروع کر دی، انھیں بیرونی طاقتوں کا آلہ کار اور حتیٰ کہ "غدار" قرار دیا۔ کچھ نے کہا کہ حزب اللہ نے سلام کی "بات نیچی کر دی" اور ریاست کو چیلنج کرنے میں کامیاب رہی۔ بعض نے تو کھلے عام حکومت کو للکارا کہ وہ اُن افراد کو گرفتار کرے جنہوں نے الروشہ کی چٹان کو روشن کیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے 27 ستمبر 2024 کو بیروت کے نواحی علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں حسن نصر اللہ کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے چار روز بعد ہاشم صفی الدین کو نیا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا، مگر 3 اکتوبر کو وہ بھی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ ان واقعات اور درجنوں کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ سیاسی اور عسکری طور پر پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں