امریکی صدر ٹرمپ نے عرب اور اسلامی ملکوں کے سربراہان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں غزہ کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ ملاقات جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران کی گئی تھی اور صدر ایردوآن نے اسے بامعنی قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا یہ نیا امن منصوبہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد امریکہ کی طرف سے مسلسل چھٹی بار مسترد کیے جانے کے محض چند دن بعد سامنے لایا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ نیا منصوبہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر ، مصر، اردن، ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان نے دیکھا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس بارے میں اسرائیلی تحفظات کا ازالہ ابھی ہونا ہے اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کے خیالات بھی اہم ہوں گے۔
پچھلے تقریبا دو سال کے دوران امریکی صدر امن منصوبے پیش کرتے رہے ہیں۔ مگر سلامتی کونسل میں ہمیشہ ہی غزہ میں امن کی قرار داد ویٹو کی جاتی رہی ہے۔ اس دوران غزہ مکمل ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے اور 65 ہزار سے زائد فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسرائیل فلسطینیوں کا جبری انخلا اب زیادہ ضروری خیال کرتا ہے۔
نئے امن منصوبے سے جنگ کیسے رکے گی؟
صدر ٹرمپ سے سربراہان کی ملاقات کے بارے میں آگاہی رکھنے والے ذریعے نے ' اے ایف پی ' کو بتایا ہے کہ نیا منصوبہ مستقل جنگ بندی چاہتا ہے۔اسرائیلی قیدیوں کی مکمل رہائی پر زور دیتا ہے۔ اسرائیلی فوج کا انخلاء اور انسانی بنیادوں پر امدد کی ترسیل میں تسلسل اس کے اہم اہداف ہیں۔
اس ذرائع کے مطابق عرب اور مسلم رہنماؤں نے تجویز کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو فوری بند کرانے کے علاوہ علاقے پر قبضے کی کوششیں رکوانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندے سٹیو وِٹکوف نے بدھ کے روز اس بارے میں کہا امریکہ کے اس نئے امن منصوبے کو ہم ٹرمپ کا 21 نکاتی منصوبہ برائے مشرق وسطیٰ اور غزہ میں امن کے لیے قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا میرے خیال میں یہ اسرائیلی خدشات کے ساتھ ساتھ خطے کے تمام پڑوسیوں کے خدشات کو بھی دور کرنے والا منصوبہ ہے۔
ایک امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے عرب اور مسلم رہنماؤں پر زور دے کر کہا ہے اب یہ جنگ فوری ختم ہونی چاہیے۔ کیونکہ اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی بہت بڑھ رہی ہے۔
حماس کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟
ایک امریکی سفارتی ذریعے نے اپنے نام کے اخفا کے ساتھ کہا اس منصوبے میں غزہ میں اگلی حکومت حماس کے بغیر قائم کرنے کا تصور دیا گیا ہے۔
اکتوبر 2023 جب سے غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہوئی ہے اسرائیلی ریاست حماس اور اس کی حکومت کے خاتمے کو اپنا اہم ہدف بتاتی آئی ہے۔ یہ بھی اسرائیل کی بھر پور کوشش ہے کہ بعد از جنگ کے غزہ میں حماس کا کوئی حکومتی کردار نہ ہو۔
اس امریکی ذریعے کے مطابق عرب اور مسلم رہنماؤں نے ملاقات کے دوران اس امر ہر بھی زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات کو نقصان پہنچاتے ہیں یا اسے غزہ اور اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے دونوں حصوں پر حکومت کرنے سے روکنے کے لیے ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورس اور مسلم ممالک کے فوجیوں کو غزہ میں اکٹھا کیا جانے کی حمایت ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ منصوبے میں چھ ماہ پہلے غزہ ریویرا کے لیے جن خیالات کی تشہیر ہوئی تھی اب اس میں بھی تبدیلی ہے۔ اس بارے میں بلئیرڈ کے پیش کردہ منصوبے سے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
مغربی کنارے کا اسرائیل سے جبری الحاق
عرب اور اسلامی ملکوں کے سربراہوں نے ٹرمپ سے ملاقات اور اس منصوبے میں یقین دہانی حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا کہ مغربی کنارے کا اسرائیل سے جبری الحاق نہ کرنے کی ضمانت دی جائے نیز یروشلم کے بارے میں اسرائیلی عزائم کو روکا جائے۔
مزید یہ غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کو روکا جائے اور فلسطینیوں کے حق واپسی کو کسی صورت ختم نہ ہونے دیا جائے۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق صدرٹرمپ نے ان رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ وہ مغربی کنارے کو اسرائیل کے ساتھ جوڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تاہم یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی موجودگی کے بارے میں کوئی بات ابھی نہیں ہوئی ہے۔
امریکہ کے اتحادیوں کا اس پر کیا مؤقف ہے ؟
نیو یارک میں وٹکوف نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا امریکہ پر امید بلکہ پر اعتماد ہے ہم اس سلسلے میں چند دنوں میں پیش رفت کا اعلان کرسکیں گے۔