فلسطینی تنظیم القسام بریگیڈ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ غزہ شہر میں اس بمباری کے دوران دو اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ اس کا رابطہ نہیں رہا ہے اور کہیں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان کی سلامتی اس صورت حال میں خطرے میں ہے۔
اس لیے اسرائیلی فوج بمباری میں عارضی وقفہ کر کے دو لاپتہ اسرائیلی قیدیوں کی تلاش کرنے دے۔ القسام بریگیڈ نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی زندہ تلاش یقینی بنانے کے لیے اسرائیلی فوج کو غزہ شہر کے جنوب میں واقع سٹریٹ 8 سے اسرائیلی فوج کو واپس جانا ہوگا اور کم از کم 24 گھنٹوں کے لیے بمباری روک کر پیر کی شام چھ بجے تک بمباری نہیں کرنی چاہیے۔
القسام بریگیڈ نے اس سے پہلے بھی اپنے ایک بیان میں بعض اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ اپنا رابطہ ختم ہوجانے کے حوالے سے کہا تھا کہ ان قیدیوں سے رابطہ اسرائیلی فوج کے فضائی و زمینی حملوں کی اس شدت کی وجہ سے برقرار نہیں رہ سکا ہے۔
اب القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ وہ دو اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کو اسرائیلی بمباری سے خطرے میں دیکھ رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس علاقے میں اسرائیلی بمباری اور زمینی حملہ کافی شدت کے ساتھ بڑھایا گیا ہے۔
ماضی میں بھی عسکریت پسندوں نے ایک بار اعلان کیا تھا کہ ان کا ایک اسرائیلی امریکی شہری کے ساتھ رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ تاہم کچھ ہی دن بعد اس کی رہائی ہو گئی تھی۔
خیال رہے جب سے اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے غزہ سے جبری انخلا کی تازہ جنگی مہم شروع کر رکھی ہے۔ یہ غزہ شہر کے رہنے والے لاکھوں فلسطینیوں کو جنوب کی طرف نکل جانے کا کہہ رہی ہے۔
اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تمام تر مذمتی ماحول کے باوجود واضح کردیا ہے کہ اسرائیلی ریاست غزہ میں حماس کے خلاف اپنا کام پورا کرے گی۔
اب تک غزہ میں 66005 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں اور 168162 سے زیادہ زخمی کر کے ان میں سے کئی کو معذور بنا دیا گیا ہے۔ لاکھوں کو ان کے علاقوں سے نکلنے پر اسرائیلی ریاست نے مجبور کر دیا ہے۔