امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی تنظیم حماس کو چار روز کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ان کی جانب سے پیش کی گئی غزہ امن تجویز پر جواب دے سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی سے متعلق تمام تجاویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "حماس کے پاس تین یا چار دن ہیں۔ اگر جواب نہ دیا گیا تو اسرائیل وہی کرے گا جو ضروری ہوا"۔ ان کا اشارہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی سابقہ دھمکیوں کی طرف تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت حماس کی جانب سے امن منصوبے کی منظوری اور "اچھے رویے" کی منتظر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "حماس کے ساتھ مذاکرات کی زیادہ گنجائش موجود نہیں"۔
امریکی صدر کے مطابق کئی عرب ممالک نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اور کچھ نے اس کی تیاری میں تعاون بھی کیا ہے۔
حماس کا موقف
اس سے قبل حماس کے سیاسی دفتر کے رکن حسام بدران نے کہا تھا کہ تنظیم ہر تجویز پر بات کرنے کو تیار ہے لیکن اپنے "دیرینہ اصولوں اور مطالبات" سے دستبردار نہیں ہوگی۔ ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ حماس نے اندرونی اور بیرونی سطح پر اپنی سیاسی و عسکری قیادت اور فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حماس کا جواب دینے میں چند روز لگ سکتے ہیں۔
قطر کی وضاحت
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی کہ ان کے ملک نے جنگ بندی منصوبہ حماس تک پہنچا چکا ہے، تاہم ان کے بقول "فیصلہ کن جواب کے لیے وقت ابھی درکار ہے"۔
امن منصوبے کی تفصیل
گذشتہ شب وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کی کچھ تفصیلات جاری کیں جو بیس نکات پر مشتمل ہے۔ منصوبے کے مطابق دونوں فریقین (اسرائیل اور حماس) کے ماننے پر فوری طور پر جنگ بند ہوگی۔ اس کے علاوہ غزہ کو غیر مسلح کرنے اور وہاں ایک فلسطینی کمیٹی کے ساتھ بین الاقوامی ماہرین کی نگرانی میں انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی شق بھی شامل ہے، جس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ابھی اس منصوبے کی کچھ تفصیلات باقی ہیں، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ اس منصوبے کو عرب اور یورپی حمایت حاصل ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران غزہ میں جنگ بندی کے لیے کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ اسرائیل کی مسلسل بمباری اور سخت محاصرے کے باعث لاکھوں فلسطینی بارہا نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔