"شادی ایپس جنسی استحصال اور بلیک میلنگ کا دروازہ"… خطرات اور سد باب کیا ہیں ؟

زیادہ سے زیادہ 20 ہزار مصری پاؤنڈ جرمانہ اور 5 سال تک قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حال ہی میں عرب دنیا میں آن لائن شادی اور تعلقات کی ایپس (ایپلی کیشنوں) کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شریکِ حیات تلاش کرنے کے لیے انھیں ترجیحی ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایپس بظاہر "آسان اور فوری تعارف" جیسی سہولتیں فراہم کرتی ہیں، مگر درپردہ یہ معاشرتی، اخلاقی اور ذاتی سائبر سکیورٹی کے لیے سنگین خطرات بھی رکھتی ہیں۔

مصر میں العرب ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر محمد محسن رمضان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ شادی کی ایپس کے چار اہم خطرات ہیں :

جنسی استحصال ... کچھ برے ارادوں والے افراد، خاص طور پر لڑکیوں کو "سنجیدہ تعارف" کے بہانے پھنساتے ہیں اور بعد میں ذاتی تصاویر یا وڈیوز کے ذریعے دھمکیاں دیتے ہیں یا انھیں غیر اخلاقی کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

مالی دھوکا دہی ... آن لائن گروپ، صارفین کو مختلف بہانوں پیسے منتقل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مثلا شادی کی تیاریاں یا جھوٹی انسانی ہمدردی کے نام پر۔

سائبر بلیک میلنگ ... ذاتی تصاویر یا بات چیت حاصل کر کے سوشل میڈیا پر شائع کرنے کی دھمکیاں دینا۔

تشهیر اور ساکھ کا نقصان ... کچھ ایپس محفوظ نہیں ہوتیں، جس سے ڈیٹا، ہیکروں کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور پروفائل کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر رمضان نے اس کے تدارک کے لیے پانچ اقدامات تجویز کیے :

سماجی آگاہی : نوجوانوں کو اپنی ذاتی معلومات شیئر کرنے کے خطرات سے آگاہ کرنا۔

سخت قوانین : غیر قانونی ایپس کو بلاک کرنا اور فراڈ یا بلیک میل کرنے والوں کو سزا دینا۔

سروس فراہم کنندگان کے ساتھ تعاون : ڈیٹا پروٹیکشن اور شناختی تصدیق کے نظام کو لازم کرنا تاکہ جعلی اکاؤنٹس کم ہوں۔

فوری اطلاع دینا : دھمکی یا بلیک میلنگ کی صورت میں فوری رپورٹ کرنا۔

ڈیجیٹل تعلیم : نصاب میں سائبر سکیورٹی کے موضوعات شامل کرنا تاکہ نوجوان محفوظ رہیں۔

ڈاکٹر رمضان کے مطابق اگر یہ ایپس بغیر حفاظتی یا اخلاقی شعور کے استعمال ہوں تو یہ "دو دھاری تلوار" بن جاتی ہیں۔ ایک طرف تعارف کے مواقع دیتی ہیں اور دوسری طرف سائبر کرائمز کے لیے میدان فراہم کرتی ہیں۔ حل یہی ہے کہ صارفین محتاط رہیں اور قوانین و ضابطوں کا خیال رکھا جائے۔

سابق مصری وزیر داخلہ کے معاون، لیفٹیننٹ جنرل محمود الرشیدی نے بتایا کہ یہ ایپس اقتصادی مشکلات یا دیگر مسائل کے باعث نوجوانوں کو راغب کرتی ہیں اور بعض اوقات پیسے بھی لیتی ہیں۔

انھوں نے وضاحت کی کہ زیادہ تر ایپس بیرون ملک سے چلائی جاتی ہیں، جس سے ان کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے۔ اندرونِ ملک چلنے والی ایپس کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہے اور مصر میں اس کے لیے قانون 175/2018 موجود ہے جو سائبر فراڈ اور بلیک میلنگ کو جرم قرار دیتا ہے۔

الرشیدی کے مطابق جرمانے 5 ہزار سے 20 ہزار پاؤنڈ تک اور قید 3 سے 5 سال تک ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی حفاظتی اقدامات بھی کیے جاتے ہیں تاکہ مجرم دوبارہ جرم نہ کر سکے۔ مصر میں شہریوں کی شکایات کے لیے خصوصی انٹرنیٹ پولیس ٹیم موجود ہے جو جدید تکنیکی آلات استعمال کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جدید دور میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا غیر محفوظ اور غیر قانونی استعمال بڑھ گیا ہے۔ اس لیے قوانین میں مزید سختی کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ محفوظ رہ سکے اور آن لائن شادی کا خواب دھوکہ یا بلیک میلنگ میں نہ بدلے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں