کویت اور بحرین نے جمعرات کو کہا کہ غزہ صمود فلوٹیلا میں شریک ان کے متعدد شہریوں کو اسرائیلی حکام نے حراست میں لے لیا ہے اور خلیجی ممالک صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
کویتی خبر رساں ایجنسی کے یو این اے کو ایک بیان میں وزیرِ خارجہ عبداللہ علی ال یحییٰ نے کہا، وزارت "زیرِ حراست شہریوں کا تحفظ اور ان کی جلد از جلد رہائی یقینی بنانے کے لیے" تمام ممکنہ کوششیں کر رہی ہے۔
ال یحییٰ نے زور دیا کہ کویتی شہریوں کی فلاح و بہبود ان کی اولین ترجیح ہے۔
بحرین کی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا کہ وہ اسرائیلی افواج کے ہاتھوں "خلیج تعاون کونسل کے دیگر افراد کے ہمراہ" زیرِ حراست بحرینی شہریوں کی حالت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جس کا مقصد انہیں جلد از جلد رہا کروانا ہے۔
بحرین نیوز ایجنسی (بی این اے) کے مطابق وزارت نے کہا، "تل ابیب میں مملکت کا سفارت خانہ متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ ان کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔"
یاد رہے کہ تقریباً 45 بحری جہازوں پر مشتمل عالمی صمود فلوٹیلا نے گذشتہ ماہ غزہ کے لیے اپنا سفر شروع کیا تھا جس میں سیاست دانوں اور کارکنان بشمول سویڈن کی موسمیاتی مہم کار گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔ اس بحری قافلے کا مقصد فلسطینی سرزمین کا اسرائیلی محاصرہ توڑنا ہے جہاں اقوامِ متحدہ نے قحط کا اعلان کر دیا ہے۔
دونوں اطلاعات میں زیرِ حراست کویتی یا بحرینی شہریوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔