حماس اسلحہ جمع کرانے پر نہیں بلکہ منجمد کرنے پر آمادہ ہوئی ہے : مصری عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور اسرائیل و حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاقِ رائے کے اعلان کا عالمی سطح پر وسیع خیرمقدم کیا گیا ہے ... یہ معاہدہ جمعرات کے روز نافذ العمل ہو گیا۔

مصر کی 'اسٹیٹ انفارمیشن سروس' کے سربراہ اور صحافی ضیاء رشوان نے واضح کیا کہ حماس تنظیم نے اپنے ہتھیاروں کو منجمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، نہ کہ انھیں مکمل طور پر جمع کرانے پر۔

انھوں نے بدھ کی شب العربیہ چینل کے پروگرام "خارج الصندوق" میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہتھیاروں کے منجمد کیے جانے کی شرط اس جنگ بندی کے حصے کے طور پر رکھی گئی ہے جو حماس نے ماضی میں اسرائیل کو پیش کی تھی، جس کی مدت پانچ سے دس سال تک ہوسکتی ہے۔

رشوان کے مطابق حماس کے ہتھیار نہ تو اسرائیل کے حوالے کیے جائیں گے اور نہ کسی غیر عرب فریق کے ... اور معاہدے میں یہ بات طے نہیں کی گئی کہ ان ہتھیاروں کو کون وصول کرے گا۔ البتہ اس میں ایک آزاد کمیٹی کے قیام کا ذکر ہے جو مصری یا مصری و عرب یا مصری، عرب اور فلسطینی مشترکہ کمیٹی ہوسکتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا غزہ کی جنگ کے آغاز سے ایک بنیادی مقصد حماس کی عسکری قوت کو تباہ کرنا تھا، مگر وہ تا حال اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

رشوان کے بقول نیتن یاہو اب اس معاہدے کے ذریعے اس تصور کا ایک "سیاسی تماشا" پیش کرنا چاہتے ہیں کہ گویا حماس کے ہتھیار تباہ کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ دو برس کی طویل جنگ کے باوجود اس ہدف تک نہیں پہنچ پائے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے میں 20 نکات شامل تھے، جن میں غزہ کو غیر مسلح علاقہ قرار دینا اور خطے کی از سرِ نو تعمیر شامل تھی۔

اس منصوبے کے مطابق تمام اسرائیلی مغویوں کی واپسی کے بعد، وہ حماس ارکان جو پُر امن بقائے باہمی پر عمل کرنے اور اپنے ہتھیار جمع کرانے پر آمادہ ہوں گے، عام معافی کے مستحق ہوں گے۔

جبکہ وہ افراد جو غزہ چھوڑنا چاہیں، انھیں دوسرے ممالک جانے کے لیے محفوظ گزرگاہ دی جائے گی۔

منصوبے میں یہ بھی طے کیا گیا کہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم دونوں فریقوں کی کسی مداخلت کے بغیر اقوامِ متحدہ، اس کی ذیلی ایجنسیوں، ہلالِ احمر اور دیگر غیر وابستہ بین الاقوامی اداروں کے ذریعے کی جائے گی۔

اسی طرح رفح کراسنگ دونوں سمتوں میں اسی طریقہ کار کے تحت کھولی جائے گی جس کا ذکر 19 جنوری 2025 کے معاہدے میں موجود ہے۔

منصوبے کے مطابق غزہ کی انتظامیہ ایک عبوری فلسطینی ٹکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد ہو گی، جو سیاسی وابستگی سے پاک ہو گی اور عوامی و بلدیاتی خدمات کی نگرانی کرے گی۔

یہ کمیٹی قابلِ اعتماد فلسطینی ماہرین اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہو گی، جو ایک نئی بین الاقوامی نگران اتھارٹی "مجلسِ امن" کے ماتحت کام کرے گی۔

اس "مجلسِ امن" کی سربراہی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہو گی، جبکہ دیگر ارکان اور عالمی رہنماؤں کے نام جن میں سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں، بعد میں ظاہر کیے جائیں گے۔

یہ ادارہ غزہ کی بحالی کے لیے مالی و انتظامی فریم ورک تیار کرے گا اور پالیسیوں کی نگرانی کرے گا، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنا اصلاحاتی پروگرام مکمل کرلے ... جیسا کہ 2020 کے ٹرمپ امن منصوبے اور سعودی-فرانسیسی تجویز میں بیان کیا گیا ہے ... اور غزہ پر مؤثر اور محفوظ طریقے سے دوبارہ کنٹرول حاصل کرلے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں