سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مصنوعی ذہانت کی چِپس کی برآمد سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ذرائع کے مطابق امریکا اور سعودی عرب نے ایک متوقع معاہدے سے متعلق مذاکرات میں نمایاں پیش رفت حاصل کر لی ہے، جس کے تحت امریکی چِپ ساز کمپنیاں سعودی عرب کو جدید سیمی کنڈکٹرز (Asemiconductor Chips) برآمد کر سکیں گی۔ یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت رواں سال مئی میں شروع ہوئی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ممکنہ معاہدوں کا عندیہ دیا تھا۔ ان میں امریکی کمپنیوں این ویڈیا (NVIDIA) اور اے ایم ڈی (AMD) کا کردار شامل ہے۔ ان معاہدوں کے تحت ان چِپس کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے قائم ڈیٹا سینٹرز میں استعمال کیا جائے گا۔ یہ اقدام امریکی حکومت کی اُس پالیسی کے مطابق ہے جس کا مقصد اپنی تکنیکی برآمدات میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں امریکی کمپنیوں کی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔

تاہم معاہدے کو اب بھی بعض چیلنجوں کا سامنا ہے۔ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ چین ان حساس ٹیکنالوجیز سے بالواسطہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی تشویش کے باعث ماضی میں این ویڈیا اور امارات کے درمیان معاہدہ معطل ہو گیا تھا، جس پر کمپنی کے سی ای او جنسن ہوانگ نے برآمدی پابندیوں پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

اس کے باوجود حالیہ ہفتوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ امریکی انتظامیہ نے این ویڈیا کی کچھ چِپس کی برآمد کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب متحدہ عرب امارات نے اپنی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے امریکی منڈی کو ترجیح دی۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ معاہدے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں