امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی پیر کو شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے، یہ بات مصری ایوانِ صدر نے ہفتے کے روز کہی۔
اس اجلاس میں پیر کی سہ پہر "بیس سے زیادہ ممالک کے رہنما شرکت" کریں گے۔
اس کا مقصد "غزہ کی پٹی میں جنگ کا خاتمہ، شرقِ اوسط میں امن و استحکام کے حصول کے لیے کوششیں بہتر کرنا اور علاقائی سلامتی و استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔"
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر، ان کی اطالوی ہم منصب جارجیا میلونی اور سپین کے پیڈرو سانچیز بھی موجود ہوں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اپنی حاضری کی تصدیق کی ہے۔
اس بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا کہ آیا اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو شرم الشیخ میں ہوں گے جبکہ حماس نے کہا ہے کہ وہ شرکت نہیں کرے گی۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ اس میں شامل نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ حماس نے غزہ پر گذشتہ مذاکرات کے دوران قطری اور مصری ثالثین کے ذریعے اصولی عمل کیا۔