پوتین اور احمد الشرع کے درمیان ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی پہلی ملاقات میں کیا ہوا؟

شامی وفد نے سابق حکومت کے باقی افواج کو دوبارہ مسلح نہ کرنے کی ماسکو سے ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتین اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان پہلی مرتبہ ہونے والی اور اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

شامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ روس پہنچنے والے شامی وفد نے سابق حکومت کی باقی ماندہ افواج کو دوبارہ مسلح نہ کرنے کے لیے ماسکو سے ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ "رائٹرز" کے مطابق شام کے ذرائع نے مزید کہا کہ وفد نے ماسکو سے شام کی نئی فوج کی تعمیر نو میں دمشق کی مدد کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ شامی صدر احمد الشرع نے پوتین کے سامنے اسرائیلی فوج کی طرف سے کسی بھی نئی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے روسی پولیس کو دوبارہ تعینات کرنے کا خیال پیش کیا۔ کریملن نے کہا ہے کہ شام میں روسی فوجی اڈوں کا معاملہ دونوں صدور کے درمیان بات چیت کا ایک اہم محور تھا۔ بات چیت میں لاذقیہ میں حمیمیم ایئرپورٹ اور شامی ساحل پر طرطوس بحری اڈے کے مستقبل، نیز ملک کے شمال مشرق میں قامشلی ہوائی اڈے پر روسی فوجی موجودگی پر توجہ دی گئی۔

بات چیت میں اقتصادی پہلوؤں پر بھی بات کی گئی۔ احمد الشرع جن امور پر براہ راست روسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان میں آسان شرائط پر گندم کی فراہمی دوبارہ شروع کرنا اور جنگ کے نقصانات کا معاوضہ بھی شامل ہے۔ متعلقہ سیاق و سباق میں روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے بدھ کو کہا کہ روسی اور شامی حکام نے ماسکو میں ایک ملاقات کے دوران توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ شام میں تیل کے منصوبوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ نوواک نے کہا کہ تیل کی کمی شام کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ شام برسوں کے تنازع کے بعد اپنی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کی طرف دیکھ رہا ہے۔

شامی کمیونٹی کے ایک وفد سے ملاقات

احمد الشرع نے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کی موجودگی میں روس میں شامی کمیونٹی کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ خبر ایجنسی ’’ سانا ‘‘ کے مطابق ملاقات کے دوران انہوں نے بیرون ملک موجود شامیوں کی جانب سے اپنے ملک کی حقیقی تصویر پیش کرنے اور تعمیر نو اور ترقی کے عمل میں حصہ ڈالنے کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ وضاحتیں شامی صدر احمد الشرع کے بدھ کو شام میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین سے ملاقات کے لیے روسی صدارتی ہیڈ کوارٹر کریملن پہنچنے کے بعد سامنے آئیں۔ دونوں رہنماؤں نے بات چیت شروع کی جس میں روسی صدر نے اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ شام کے ساتھ تاریخی سفارتی تعلقات پر زور دیا۔

پوتین نے احمد الشرع سے مزید کہا کہ روس شام کی عوام کا مفاد چاہتا ہے اور یہی مفاد پہلے بھی ہمیشہ اسے متحرک کرتا رہا ہے۔ ماسکو وزارت خارجہ کے ذریعے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ شامی صدر احمد الشرع نے روس اور شام کے درمیان تاریخی تعلقات پر زور دیا اور واضح کیا کہ دمشق تعلقات کو جوڑنا چاہتا ہے۔

پہلا دورہ

واضح رہے احمد الشرع نے بارہا اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک کسی کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنے گا اور سب کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے گا۔ شامی صدر نے حال ہی میں یہ بھی کہا تھا کہ دمشق سابق حکومت کے صدر بشار الاسد کا احتساب کرنے کے لیے دستیاب تمام قانونی راستوں پر عمل کرے گا تاہم یہ سب کچھ روس کے ساتھ کسی مہنگی لڑائی میں الجھے بغیر ہوگا۔ سابق شامی صدر بشار الاسد ان دنوں روس میں ہیں۔

احمد الشرع اس بات پر زور دیا کہ اس وقت روس کے ساتھ لڑائی میں الجھنا شام کے لیے بہت مہنگا ہوگا اور ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ یہ احمد الشرع کا اس وقت سے ماسکو کا پہلا دورہ ہے جب سے ان کی زیر قیادت اپوزیشن دھڑوں نے گزشتہ سال سابق صدر کا تختہ الٹا تھا۔ واضح رہے پوتین نے اس وقت بشار الاسد کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی تھی اور تب سے سابق شامی صدر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں کہیں بھی نہیں دیکھا گیا ہے۔ یاد رہے روس کے شام میں دو بڑے فوجی اڈے موجود ہیں۔ لاذقیہ صوبے میں حمیمیم فضائی اڈہ اور طرطوس میں ایک بحری اڈہ الگ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں