اسرائیلی ریاست کے نائب وزیر اعظم یائریو لیوین نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ انہوں نے فلسطینی کسانوں کو زیتون کی کاشت اور بہتر پیداوار لینے کے طریقے سکھانے والے 32 غیر ملکیوں کو ڈی پورٹ کر دیا ہے۔
یہ 32 غیر ملکی انسانی بنیادوں پر فلسطینی کسانوں کی مدد اور رہنمائی کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے میں موجود تھے۔ جہاں فلسطینیوں کے خلاف اپنی مہم میں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کار اب تک ایک ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کو سات اکتوبر 2023 سے ہلاک کر چکے ہیں۔ جبکہ ان کے گھروں کو مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ باغات اور فصلوں کو بھی تباہ کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ فلسطینی کسی طرح مغربی کنارے سے نقل مکانی کر جائیں۔
اسرائیلی نائب وزیر اعظم نے البتہ ان غیر ملکی شہریوں پر فوجی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
یائریو لیوین نے کہا ڈی پورٹ کرنے کے یہ احکامات مغربی کنارے میں قائم یہودی آباد کاری کونسل کی شکایت کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔ کیونکہ زیتون کی کاشت اور پیداوار بڑھانے کے فلسطینیوں کو طریقے بتا کر یہ کارکن سامریہ کے علاقے میں اشتعال کا باعث بن رہے تھے۔
ان ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں 30 سالہ برطانوی شہری روڈی شلکائنڈ بھی شامل ہے ۔ اس نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ فلسطینی کسانوں کی کاشتکاری میں مدد اور خیر خواہی کے لیے یہاں آیا تھا۔ یہ خالصتا ایک انسانی ہمدردی کا کام تھا۔
یاد رہے زیتون کی کاشت اور فصل پرتشدد واقعات کی وجہ سے کافی متاثر ہوئی ہے۔ کیونکہ یہودی آباد کاروں سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی املاک ، زمین اور فصلیں تک محفوظ نہیں ہیں۔
ان بے رحمانہ واقعات کے دوران انسانی حقوق کے اداروں سے تعلق رکھنے والے کارکن فلسطینی کسانوں کو خالص انسانی بنیادوں پر مدد دینے لیے آتے ہیں۔
برطانوی شہری نے بتایا اسرائیلی فورسز نے اسے برطانیہ ڈی پورٹ کرنے سے پہلے تین دن تک حراست میں رکھا۔ بعد ازاں 19 اکتوبر کو ڈی پورٹ کر دیا ۔
اس کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس علاقے کو ملٹری زون قرار دے دیا جس میں ہم فصل کاٹنے میں مدد دینے کے لیے موجود تھے۔ اس کے بعد ہم پر الزام لگایا گیا کہ ہم ملٹری زون میں کام کر رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینیوں کو تنگ کرنے اور نقصان پہنچانے کے یہ اسرائیل کے معمول کے حربے ہیں۔
انسانی حقوق کارکن نے کہا 32 کارکنوں کو مغربی کنارے کے علاقے نابلوس سے گرفتار کرکے ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ لیکن ہم میں سے کسی کو بھی حراست میں لینے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ صفائی کا موقع دیا گیا۔
نائب وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا اس حکمنامے پر داخلی سلامتی کے وزیر بین گویر کے بھی دستخط موجود ہیں۔ کہ ان غیر ملکیوں نے اسرائیلی فوجی کمانڈر کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔
فلسطینی کسانوں کے لیے غیر منافع بخش فورم کے کا مقصد فلسطینی کسانوں کی پیشہ وارانہ رہنمائی کرنا ہے۔ تاہم اسرائیلی ریاست نے اسے بھی 2021 میں دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ اس کے ساتھ پانچ دیگر اداروں کو بھی دہشت گرد قرار دیا تھا۔
تاہم واضح رہے اس فورم کے ایک رکن ابو سیف کے مطابق یہ فورم بھی غیر ملکیوں کے ساتھ ایک کارکن کے سے انداز میں کام کر رہا تھا میزبان فورم نہیں تھا۔