اسرائیل نے حماس اور ریڈ کراس کو رفح میں اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے اتوار کے روز حماس کے کارکنوں اور بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے اہلکاروں کو جنوبی غزہ کی شہر رفح میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی جا سکے۔ اسرائیلی حکومت نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ریڈ کراس کی ٹیم حماس کے ساتھ مل کر اس علاقے میں تلاش میں مصروف ہے جسے "یلو زون" کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس کے ارکان اور ریڈ کراس کے عملے پر مشتمل گاڑیوں کا ایک قافلہ رفح میں داخل ہوا، اس کے بعد حماس نے ایک اسرائیلی یرغمالی کی ممکنہ تدفین سے متعلق مقامات کے نقشے فراہم کیے۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اس اسرائیلی افسر ہدار گولڈن کی لاش برآمد کرنے کے لیے کی جا رہی ہے، جسے حماس نے 2014ء کی غزہ جنگ کے دوران پکڑا تھا۔

ہد‌ار گولڈن ان چار اسرائیلی یرغمالیوں میں شامل تھا جنہیں حماس نے 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حملے سے قبل قید کر رکھا تھا، اور جن کا سراغ اب تک نہیں ملا تھا۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کو ریڈ کراس کی ایک ٹیم رفح روانہ ہوئی تاکہ اس یرغمالی کی لاش تلاش کی جا سکے۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ لاشوں میں سے کچھ ممکنہ طور پر "یلو زون" کے اندر موجود ہیں۔ اسرائیلی اخبار "دی یروشلم پوسٹ" نے رپورٹ کیا کہ ان لاشوں میں سے بعض علاقے کے اندر دفن ہیں جو غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر محیط ہے، اور تلاش کا عمل جاری ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ریڈ کراس کی ٹیم رفح پہنچی ہے اور "یلو زون" کے قریب لاشوں کی تلاش کر رہی ہے۔

جاری جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنے قبضے میں موجود تمام یرغمالیوں، چاہے زندہ ہوں یا مردہ، کو واپس کرے۔ معاہدے کے وقت ان کی تعداد 48 تھی، جن کے بدلے میں اسرائیل تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدی رہا کرنے کا پابند تھا۔

تاہم حماس اب تک صرف 15 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر چکی ہے، جبکہ مزید 13 لاشیں غزہ کے تباہ شدہ علاقوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا امکان ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ انہیں تلاش کرنے کے لیے مزید مشینری درکار ہے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی حکومت نے قاہرہ کی درخواست پر مصری ٹیموں اور بھاری مشینری کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے تاکہ لاشوں کی باقیات کی تلاش میں مدد دی جا سکے۔

العربیہ / الحدث کی نامہ نگار کے مطابق 14 مصری مشینیں رفح کراسنگ کے راستے غزہ میں داخل ہو چکی ہیں، تاہم ابھی تک اپنا کام شروع نہیں کیا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کے مطابق "مصری ٹیم فنی ماہرین پر مشتمل ہے اور ان کا کام صرف یرغمالیوں کی لاشوں کے مقامات کی نشاندہی تک محدود ہوگا"۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باقی اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرے، بصورت دیگر واشنگٹن "ضروری اقدامات" کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں