جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے دستے پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ
طیارہ بردار ڈرون نے یونیفیل کی پٹرولنگ ٹیم کے قریب بم گرایا، بعدازاں اسرائیلی ٹینک نے بھی فائرنگ کی
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفیل) نے بتایا ہےکہ اسرائیلی فوج نے امن فوج کے ایک دستے پر فائرنگ کی تھی تاہم وہ محفوظ رہا اور کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
یونیفیل کے جاری کردہ بیان کے مطابق "اتوار کو شام تقریباً 5 بج کر 45 منٹ پر ایک اسرائیلی ڈرون جنوبی لبنان کے گاؤں کفرکلا کے قریب یونیفیل کی پٹرولنگ ٹیم کے اوپر آ کر جھپٹا اور ایک بم پھینکا۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ "چند لمحوں بعد ایک اسرائیلی ٹینک نے اقوام متحدہ کے امن دستے کی سمت فائرنگ کی۔ خوش قسمتی سے یونیفیل کے کسی اہلکار یا ان کے آلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔"
یونیفیل کے مطابق یہ واقعہ اسی مقام پر ایک سابقہ جھڑپ کے بعد پیش آیا، جہاں کچھ عرصہ قبل ایک اسرائیلی ڈرون نے امن فوج کی ٹیم کے اوپر خطرناک انداز میں پرواز کی تھی، جس پر فورس نے دفاعی اقدامات کیے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ یونیفیل نے ان کارروائیوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور لبنان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں جو سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اکتوبر 2023ء میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سرحد پار جھڑپوں کے دوران یونیفیل کے ٹھکانے متعدد بار نشانہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائر بندی ہو چکی ہے، تاہم اسرائیلی فوج لبنان میں وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے خطرہ بدستور موجود ہے۔ اسرائیل نے 18 فروری کی طے شدہ انخلا کی آخری تاریخ گزر جانے کے باوجود سرحدی چوکیوں پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے۔