ریاض میں آج "دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد" کے اعلیٰ سطحی رابطہ اجلاس کا انعقاد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کے مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کے لیے خصوصی نمائندے کرسٹوف بیجو نے کی۔
اجلاس میں متعدد نکات پر غور کیا گیا، جن میں "اعلانِ نیویارک" پر عمل درآمد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے متعلق منصوبہ بندی، انسانی امداد کی ترسیل میں بہتری اور فلسطینی اتھارٹی کی معاونت شامل تھے ہیں۔ یہ بات سعودی عرب اور خلیج میں یورپی یونین کے مشن نے بتائی۔
تولى سعادة السيد كريستوف بيجو @EUSR_MEPP، الرئاسة المشتركة لاجتماع التحالف الدولي لتنفيذ حل الدولتين، بالرياض مع المملكة العربية السعودية والنرويج. كان على جدول أعمال الاجتماع موضوعات وصول المساعدات الإنسانية ودعم السلطة الفلسطينية وتنفيذ إعلان نيويورك، فضلاً عن خطة الرئيس ترمب.
— EU in the GCC (@EUintheGCC) October 26, 2025
اسی تناظر میں سعودی عرب نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور مسلسل جاری تشدد کے دائرے کو روکنے کے اپنے عزم کی تجدید کی۔ ساتھ واضھ کیا کہ فلسطین کا مسئلہ مملکت کی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔
گزشتہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79 ویں اجلاس کے موقع پر، ریاض نے عرب و اسلامی ممالک اور متعدد بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے "دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی اتحاد" کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب نے زور دیا تھا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے اور عالمی امن کے حصول کی بنیاد بھی یہی ہے، لہٰذا تمام ممالک سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی اپیل کی گئی۔
اس اتحاد کے اجلاس کے نتیجے میں "اعلانِ نیویارک" کی دستاویز سامنے آئی، جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 142 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ اس دستاویز نے دو ریاستی حل کے لیے عالمی عزم کی تجدید کی اور فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے کے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کی ناقابلِ واپسی راہ متعین کی۔
اعلانِ نیویارک میں طے پایا کہ غزہ کی جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فلسطینی تنازع کے منصفانہ، پائے دار اور پر امن حل کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا، جو دو ریاستی حل کے مؤثر نفاذ پر مبنی ہو گا۔
دستاویز نے کسی بھی فریق کی جانب سے شہریوں پر حملوں کی مذمت کی، جن میں دہشت گردی، اندھا دھند حملے، شہری تنصیبات پر حملے، اشتعال انگیزی اور تباہی کے تمام واقعات شامل ہیں۔
اسی حوالے سے جاری ہونے والے سعودی-فرانسیسی مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اعلانِ نیویارک تشدد اور بار بار ہونے والی جنگوں کے دائرے سے نکلنے کے لیے ایک اصولی اور حقیقت پسندانہ متبادل فراہم کرتا ہے۔
بیان میں فلسطینی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تربیت اور سازوسامان کی فراہمی میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جس میں موجودہ پروگراموں جیسے امریکی سیکیورٹی کوآرڈینیٹر مشن (USSC)، یورپی پولیس مشن (EUPOL COPPS) اور رفح کراسنگ پر یورپی یونین مشن (EUBAM Rafah) سے استفادہ شامل ہے۔
بیان میں یہ بھی زور دیا گیا کہ غزہ پٹی اور مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کیا جائے اور "ایک ریاست، ایک حکومت، ایک قانون اور ایک اسلحہ" کی فلسطینی پالیسی کا خیر مقدم کیا گیا۔
آخر میں ریاض اور پیرس نے اپنے مشترکہ بیان میں بین الاقوامی برادری سے محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کی اپیل کی، اور ان سترہ ورکنگ گروپوں کے سربراہان کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے دو ریاستی حل کے جلد نفاذ کے لیے عملی روڈ میپ تیار کرنے میں کردار ادا کیا۔
-
سعودی عرب، امارات اور قطر نے غزہ معاہدے میں کلیدی کردار ادا کیا:امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، قطر، امارات سمیت دیگر عرب اور ...
بين الاقوامى -
سعودی مشرقی ساحل کا ماحولیاتی نظام مجموعی طور پر صحت مند ہے: مطالعہ
سعودی قومی مرکز برائے جنگلی حیات (این سی ڈبلیو) نے پہلے جامع جائزے کی تکمیل کے بعد ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو کانفرنس کا نواں ایڈیشن آج سے شروع
کانفرنس میں 250 ڈائیلاگ سیشنز کے ذریعے آٹھ ہزار سے زیادہ شرکا اور 650 مقررین شرکت ...
بين الاقوامى