اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ نے پیر کے روز مطالبہ کیا ہے کہ جب تک حماس مقتول اسیران کی باقی ماندہ لاشیں واپس نہ کر دے، غزہ جنگ بندی کے اگلے اقدامات موقوف کر دیئے جائیں۔
"حماس کو بخوبی معلوم ہے کہ ہلاک شدہ قیدیوں میں سے ہر ایک کہاں ہے،" قیدیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے دعویٰ کیا۔
"تمام 48 مغویوں کی واپسی کے لیے معاہدے میں طے شدہ ڈیڈلائن کو ہفتے گذر چکے ہیں لیکن 13 بدستور حماس کی قید میں ہیں۔"
ایسوسی ایشن نے کہا، "اہلِ خانہ حکومتِ اسرائیل، امریکی انتظامیہ اور ثالثین پر زور دیتی ہے کہ جب تک حماس اپنی تمام ذمہ داریاں پوری اور تمام قیدیوں کو اسرائیل کو واپس نہیں کر دے، معاہدے کے اگلے مرحلے کی طرف نہ بڑھیں۔"
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی 10 اکتوبر کو عمل میں آئی تھی۔
معاہدے کی شرائط کے تحت حماس نے اپنے پاس بقیہ 20 زندہ قیدیوں کو رہا اور 28 میں سے 15 کی باقیات واپس کر دی ہیں جن کی اسرائیل نے پہلے ہی ہلاکت کی تصدیق کر دی تھی۔
حماس نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے اور اس کا اصرار ہے کہ وہ مزید 13 لاشیں واپس کرنے کی کوشش کر رہی ہے -- 11 مزید اسرائیلی اور تھائی لینڈ اور تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے دو کارکنان -- لیکن جنگ سے غزہ میں ہونے والی تباہی کے باعث تلاش میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
ہفتے کے روز میڈیا کو ایک بیان میں حماس کے اعلیٰ مذاکرات کار خلیل الحیۃ نے کہا: "اسرائیلی اسیران کی لاشیں تلاش کرنے میں چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ قابض فوج کے حملوں سے غزہ کا علاقہ بدل کر رہ گیا ہے۔ مزید یہ کہ لاشوں کو دفنانے والوں میں سے بعض شہید ہو چکے ہیں یا اب انہیں یاد نہیں کہ لاشیں کہاں دفن کی تھیں۔"
مصر نے بحالی کے عمل میں مدد کے لیے گذشتہ دو دنوں میں اسرائیل کی منظوری سے بحالی کارکنان اور زمین کو حرکت دینے والے بھاری آلات غزہ میں بھیجے ہیں۔
جنگ بندی منصوبے کے اگلے مراحل کے حوالے سے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے لیکن امریکی انتظامیہ جنگ بندی پر عمل درآمد کی غرض سے ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے جس میں عرب اور مسلم ممالک کے فوجی شامل ہوں گے۔
امریکی فوج نے جنگ بندی کی نگرانی اور امداد اور تعمیرِ نو کو مربوط کرنے کے لیے جنوبی اسرائیل میں ایک رابطہ مرکز بھی قائم کیا ہے لیکن امدادی ادارے غزہ کے اندر انسانی امداد کے قافلوں کی زیادہ رسائی کے لیے زور دے رہے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ کے اہم شہروں سے اپنی فوجیں نکال لی ہیں لیکن اب بھی تقریباً نصف علاقے پر ایک نام نہاد "ییلو لائن" کی پوزیشنوں سے کنٹرول برقرار رکھا ہے اور اس نے مصر کے ساتھ رفح راہداری کے ذریعے امداد کی اجازت دینے کے مطالبات کی مزاحمت کی ہے۔
-
جنگ بندی کی باوجود غزہ پر کنٹرول جاری رکھنے کے لیے گولیاں چلاتے رہیں گے : اسرائیل
غزہ جنگ بندی کو دو ہفتے گزرے جانے کے بعد بھی اگرچہ سب اچھا نہیں ہے اور 10 اکتوبر ...
مشرق وسطی -
غزہ پر اسرائیلی حملے سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی: روبیو
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز کہا ہے کہ واشنگٹن اس حالیہ حملے کو ...
مشرق وسطی -
تل ابیب غزہ میں لاشوں کی تلاش کے لیے اضافی مصری سامان کی اجازت دے سکتا ہے
ریڈ کراس اور حماس ییلو زون میں یرغمالیوں کی باقیات کی تلاش کر رہے ہیں: اسرائیلی ...
مشرق وسطی