پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پیٹرول 137 روپے 24 پیسے مہنگا

ایران جنگ نے پورے خطےکو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے: وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حکومتِ پاکستان نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 458.40 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا ہے، جس پر عوامی اور کاروباری حلقے ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ اعلان وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا ہے۔

حالیہ اضافہ مارچ کے اوائل میں مقرر کردہ سابقہ قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں چھلانگ کی عکاسی کرتا ہے، جب پیٹرول 321.17 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر تھا، جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر سے زائد اور ڈیزل میں 184.49 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

محمد اورنگزیب نے ایک ہدفی ریلیف اقدام کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو 20 لیٹر تک پیٹرول فی لیٹر 100 روپے کم قیمت پر فراہم کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے آغاز میں ملک نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ صرف پورے خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔”

انہوں نے اس موقع پر نظم و ضبط اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت کے آج کیے گئے “مشکل اور ذمہ دارانہ” فیصلوں کو مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمریاں مسترد کرتے رہے تھے۔

گزشتہ جمعہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ انہوں نے پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ”اس ہفتے بھی مجھے پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری پیش کی گئی، جسے میں نے مسترد کر دیا۔“ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام پر بوجھ منتقل نہیں کرے گی بلکہ تقریباً 56 ارب روپے کی اضافی لاگت خود برداشت کرے گی۔

ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ دوسری بار رد و بدل کیا گیا ہے۔

6 مارچ کو حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جو عالمی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں کیا گیا۔ یہ اضافہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کی جانب سے اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا تھا۔ ایران نے اس دوران خلیج عرب اور خلیج عمان کے درمیان واقع اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں