ٹرمپ میرے والد کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں: مروان برغوثی کے بیٹے کا مطالبہ

مروان برغوثی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن پر حماس سمیت تمام فلسطینی گروپ متفق ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیلی قید میں موجود فلسطینی رہنما مروان برغوثی کے بیٹے عرب برغوثی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے سے ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اسرائیل پر ان کے والد کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

عرب برغوثی نے کہا ان کے تنہا ان کے والد فلسطینیوں کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 66 سال کے مروان برغوثی کو ان کے حامیوں نے ’’ فلسطین کا نیلسن منڈیلا ‘‘ کا لقب دیا ہے۔ وہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں دوسرے فلسطینی انتفاضہ کے معماروں میں سے ایک ہیں۔ ان کا ذکر اکثر فلسطینی صدر محمود عباس کے ممکنہ جانشین کے طور پر کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی ایک عدالت نے جون 2004 میں مروان برغوثی کو اسرائیلیوں کے خلاف چار حملوں میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہونے کے بعد پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان حملوں میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایجنسی فرانس پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے عرب برغوثی نے کہا کہ ان کے والد قابل ہیں اور ان کا ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ ہے جو انہیں فلسطینی عوام کو متحد کرنے کے قابل بناتا ہے۔

اپنے والد کی رہائی کا مطالبہ کرنے والی مہم کے ہیڈکوارٹر سے بات کرتے ہوئے عرب برغوثی نے مزید کہا کہ ان جیسا کوئی شخص بین الاقوامی برادری کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت میں اپنی سنجیدگی کو ثابت کرنے کے لیے ایک بہترین موقع کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے گزشتہ ماہ فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

عرب برغوثی خاندان کا دوسرا فرد ہے جس نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ٹرمپ سے ان کی رہائی کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ مروان برغوثی کی بیوی فدوی نے بھی کچھ دن پہلے ایسا ہی مطالبہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے 15 اکتوبر کو ٹائم میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مروان برغوثی کی رہائی کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ فیصلہ کب کیا جائے گا۔

امن میں شراکت دار

عرب برغوثی نے کہا میں واقعی امید کرتا ہوں کہ ٹرمپ ایسا کر سکتے ہیں اور اسرائیلیوں پر دباؤ ڈال سکتے ہے کہ وہ میرے والد کو رہا کر دیں کیونکہ وہ امن کے ساتھی ہیں۔ عرب نے بتایا کہ انہوں نے تین سالوں میں اپنے والد سے بات نہیں کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا خاندان ٹرمپ کے بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے۔ مروان برغوتی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن پر حماس سمیت تمام فلسطینی دھڑے متفق ہیں۔

رام اللہ میں قائم ایک آزاد ادارے فلسطین سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ (پی سی پی ایس آر) کی طرف سے مئی کے ایک سروے میں کہا گیا تھا کہ اگر برغوثی نئے فلسطینی صدارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو وہ جیت جائیں گے۔ مروان برغوثی صدر محمود عباس کی سربراہی میں تحریک الفتح کی ایک سرکردہ شخصیت ہیں اور قید کے باوجود بارہا تحریک کی مرکزی کمیٹی کے لیے دوبار منتخب ہو چکے ہیں۔ قید میں رہنے کے دوران مروان کی فلسطینیوں میں مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

عرب نے کہا کہ ان کے والد جیل کے اندر سے اپنے وکیل کے ذریعے سیاسی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اپنے وکیل سے وہ گزشتہ دو سالوں میں پانچ یا چھ بار ملے ہیں۔ ان دو سالوں میں سے زیادہ تر وقد انہوں نے قید تنہائی میں گزارا ہے۔ ان کے بیٹے نے مزید کہا ہمارے پاس بدعنوانی کے مسائل ہیں جن کا حل ہمیں فلسطینیوں کے طور پر کرنا چاہیے اور ہمیں حوصلہ مند ہونا چاہیے، اپنے اندرونی توازن کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لینا چاہیے۔ عرب نے بات جاری رکھی اورکہا کہ امریکہ سمیت مغربی ملکوں کو ایک ایسے قابل احترام اور قابل اعتماد فلسطینی رہنما کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو ایک ہی نقطہ نظر کا حامل ہو۔

جذبات کا بھنور

مروان برغوثی کا نام اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے میں طے پانے والے قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے تناظر میں لیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس کا مروان کو رہا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عرب برغوثی نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتے ایک خاندان کے طور پر ہمارے لیے بہت مشکل رہے کیونکہ یہ جذبات کے بھنور کی طرح تھے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ رہا ہونے والے قیدیوں نے خاندان کو بتایا کہ ستمبر میں دو جیلوں کے درمیان منتقلی کے دوران ان کے والد کو مارا پیٹا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے والد کو شدید مارا پیٹا گیا اور اس کی وجہ سے وہ ہوش کھو بیٹے۔ ان کے سینے کی چار پسلیاں ٹوٹ گئیں اور ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔

اگست میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نظر آئے تھے۔ بن گویر نے مروان برغوثی کو جیل کے اندر دھمکی دی تھی۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مروان انتہائی پتلے ہوگئے اور بہت تھکے ہوئے تھے۔ جب عرب برغوثی سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے والد رہا ہونے پر آرام کرنا پسند نہیں کریں گے تو ان کے بیٹے نے جواب دیا کہ مجھے اس کی توقع نہیں ہے۔ عرب نے مزید کہا کہ اپنے والد کو جانتے ہوئے مجھے یقین ہوتا ہے کہ وہ اس سانحے کو روکنے، غزہ کی تعمیر نو اور مجموعی طور پر فلسطینی عوام کو زندہ کرنے میں ایک موثر کردار ادا کریں گے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی اس مقصد کے حصول کے لیے وقف کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں