منشیات کے خلاف جنگ؛ کویت میں سزائے موت، بھاری جرمانوں پر مشتمل نیا قانون منظور!

کویتی میڈیا کے مطابق نیا قانون پرانے قانون میں موجود قانونی خامیوں کو دور کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کویت نے منشیات اور عقل کو ماوف کرنے والے مواد کی روک تھام، استعمال کے ضوابط اور ان کی سمگلنگ و تجارت کے حوالے سے ایک نئے قانون کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

نئے قانون میں سزاؤں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جو بعض صورتوں میں سزائے موت پر منتج ہو سکتی ہیں۔ ساتھ ان اشیا کے سمگلروں، تاجروں، فروخت کنندگان اور منشیات کے بدلے سودا کرنے والوں پر بھاری مالی جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔

کویتی اخبار "القبس" نے ذرائع کے حوالے ستے بتایا کہ شیخ فہد الیوسف کی تشکیل کردہ عدالتی کمیٹی نے نئے قانون کا مسودہ جج محمد الدعیج کی سربراہی میں تیار کیا۔

اسے منشیات فروشوں کے خلاف کھلی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں چار مختلف صورتوں میں سزائے موت تک کی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔

ذرائع نے اس قانون کو منفرد اور نمایاں قرار دیا، جس میں ایسے جرائم، علاج اور احتیاطی ضوابط شامل کیے گئے ہیں جو دیگر ممالک کے قوانین میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نیا قانون پرانے قانون میں موجود قانونی خامیوں کو بند کرنے اور درست کرنے کا مقصد رکھتا ہے، وہی خامیاں جن کی وجہ سے ماضی میں منشیات کے ہزاروں مقدمات میں ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا، کیونکہ کارروائی میں غلطیاں یا قانونی نقائص پائے گئے تھے۔ نئے قانون کے تحت ایسے نقائص کی بنیاد پر بری ہونے کا امکان تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

سزائوں کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ قانون کے مطابق سزائے موت ان افراد کے لیے مقرر کی گئی ہے جو کم عمر (نابالغ) شخص کو منشیات یا عقل ماوف کرنے والا لوازمہ استعمال کرنے کے لیے دیتے ہیں، چاہے وہ یہ عمل بغیر کسی مالی فائدے کے ہی کیوں نہ کریں۔ اسی طرح جو کوئی اپنے سرکاری عہدے یا ملازمت کا فائدہ اٹھا کر منشیات کی تجارت میں ملوث پایا جائے گا، اسے بھی سزائے موت دی جائے گی۔

ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون میں منشیاتی تبادلے (barter) کے تصور کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق جو کوئی شخص کسی دوسرے کو نشہ آور مادہ (مثلاً لیرِکا یا کبتی کی گولی) کسی سفارش یا مدد کے بدلے میں دے، حتیٰ کہ وہ مدد قانونی یا جائز ہی کیوں نہ ہو، اس کے لیے بھی سزائے موت مقرر کی گئی ہے۔

اسی سلسلے میں قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو منشیات یا ذہن ماوف کر دینے والا لوازمہ (جیسے چرس کی سگریٹ یا شیشے کا نشہ) دو یا زیادہ افراد کو محض تحفے، دوستی یا تجربے کے طور پر دے، تو اسے بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ قانون کے مطابق کھیلوں کے کلبوں میں نشہ آور اشیاء (اسٹیمولینٹس) استعمال کرنے والے افراد کو 10 سال قید کی سزا دی جائے گی۔ اسی طرح جو کوئی کسی دوسرے شخص کو نشہ کرنے پر اُکسائے یا ترغیب دے، چاہے وہ بالواسطہ طریقے سے ہی کیوں نہ ہو، جیسے اس کے سامنے نشے کے فائدے بیان کرنا مثلاً یہ کہنا کہ نشہ انسان کو زیادہ متحرک یا خوش مزاج بناتا ہے، تو اسے بھی تین سال قید کی سزا ہو گی۔

قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر کوئی شخص نشہ کرنے والے کے ساتھ بیٹھا ہو اور اس کے سامنے نشہ کیا جا رہا ہو اور اس کے پاس جانے یا وہاں سے نکلنے کا موقع ہو مگر وہ ایسا نہ کرے، تو اسے بھی تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔ البتہ اس حکم سے بیوی، بچے اور والدین کو استثنا حاصل ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں