امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے کئی سال پہلے سے شام پر 'سیزر ایکٹ' کے تحت عائد کی گئی پابندیوں کے خاتمے لیے لیے نظریں جما لی ہیں تاکہ شام کے صدر احمد الشروع سے ماہ مئی میں کیا گیا وعدہ پورا کیا جا سکے۔ یہ پابندیاں اسد دور میں شام پر لگائی گئی تھیں۔ جب شام روسی کیمپ کا حصہ تھا۔
احمد الشرع اسی ماہ کے اواخر میں امریکہ کا پہلا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔ وہ وائٹ ہاؤس آنے والے پہلے شامی صدر ہوں گے۔ ماہ ستمبر میں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ آچکے ہیں مگر اب ان کا امریکہ کا یہ باقاعدہ سرکاری دورہ ہوگا۔
امریکی دفتر خارجہ کے ذرائع نے ' العربیہ' کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ان دنوں کانگریس پر دباؤ ڈالے ہوئے ہے تاکہ شام پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کی منظوری دی جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ماہ مئی میں ہی احکامات جاری کر دیے تھے۔ تاکہ بشارالاسد رجیم کا خاتمہ کرکے بر سرا قتدار آنے والی قیادت کو خانہ جنگی کے اثرات سے شام کو نکالنے کے لیے مدد کی جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ماہ مئی میں سعودی عرب کا دورہ کیا تو اس دوران شام کے صدر الشرع نے بھی ریاض میں ان سے ملاقات کی تھی۔ امریکی انتظامیہ نے شام پر لگائی گئی پابندیاں ختم کرنے کی کوششیں اب تیز کر دی ہیں۔
دفتر خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ 'سیزر ایکٹ' کے تحت لگائی گئی پابندیاں ہٹانے سے داعش کے خلاف ہمارے مؤقف اور جنگ میں مضبوطی لانا ہے۔ تاکہ داعش کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے اور شام کے لوگوں کو بہتر مستقبل کا موقع دیا جاسکے۔
البتہ کئی قانون سازوں کا مؤقف اس کے برعکس ہے اور وہ پابندیاں ہٹانے کے مخالف ہیں۔ وہ احمد الشرع کے ماضی اور شام میں اقلیتوں کے لیے اپنی حمایت کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ان کے مطابق احمد الشرع کو بھی ماضی میں دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔
نیتن ہاہو حکومت کے حامی ارکان کانگریس بھی پابندیاں ہٹانے کے بارے میں شکوک ظاہر کرتے ہیں کہ اس سے مقصد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ آنے والے نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کو بھی اس خاتمے کا حصہ بنایا جائے۔
بہت سے ملک اور کمپنیاں جو شام میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی رکھتے ہیں ان کی راہ میں یہ پابندیاں رکاوٹ ہیں۔
جبکہ امریکہ کا علاقے میں اپنے تمام تر اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ ہے تاکہ شام کے لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے شام میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے۔ جس کے نتیجے میں شام ایک پر امن اور خوشحال مستقبل کی طرف جا سکے۔