غزہ : اسرائیل نے 45 فلسطینی اسیران کی لاشوں کی باقیات واپس بھیج دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جنگ بندی کے بعد اسرائیلی جیلوں میں قید کے دوران ہلاک کیے گئے فلسطینیوں کی لاشیں غزہ واپس بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز مزید 45 قیدیوں کی لاشیں اسرائیل نے غزہ بھجوائی ہیں۔

اب تک 270 کی تعداد میں لاشوں کی واپسی ہو چکی ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس اور اسرائیلی ریاست دونوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم فرق یہ ہے کہ غزہ میں قید اسرائیلیوں کو اسرائیلی فوج نے اپنی بمباری سے ہلاک کیا تھا اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو زیادہ تر تعداد میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے تشدد کر کے ہلاک کیا ہے۔

ادھر پیر کے روز اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حماس کی طرف سے بھیجی گئی تازہ 3 لاشوں کا فرانزک کرانے کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں ہیں۔

یاد رہے یہ 3 لاشیں جن کی باقیات کا تازہ فرانزک کرایا گیا ہے ان میں امریکی شہریت کے حامل اسرائیلی کیپٹین 21 سالہ اومر نیوٹا ، 19 سالہ ڈینیئل اور 40 سالہ اسرائیلی فوجی کرنل آساف ہمامی شامل تھے۔

حماس کے پاس جنگ بندی کے موقع پر مجموعی طور پر 48 قیدی تھے جن میں سے 28 مردہ حالت میں تھے۔ 20 زندہ قیدیوں کو حماس نے پہلے ہی روز رہا کر دیا تھا۔ جبکہ مردہ قیدیوں کی لاشیں بھی بتدریج واپس اسرائیل بھیجی جا رہی ہیں۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس لاشوں کی ترسیل میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے اور یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں