سعودی عرب میں 21.6 ارب ریال کی نجی سرمایہ کاری

ثقافت اور تفریح کے شعبوں میں نئی جہتیں متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے تحت تیز رفتار تبدیلی کے سفر پر گامزن ہے۔ اسی تناظر میں پروگرام "جودہ الحيات" (معیار زندگی) کے چیف ایگزیکٹو خالد البکر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ مملکت میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور شراکتوں کے لیے نئے دروازے کھول دیے گئے ہیں، تاکہ ثقافت اور تفریح کے میدانوں میں تنوع اور معاشی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کے مطابق 2024ء میں "جودہ الحيات" پروگرام کے تحت غیر سرکاری سرمایہ کاری کا حجم بڑھ کر 21.6 ارب ریال (5 ارب ڈالر سے زائد) تک پہنچ گیا، جس میں زیادہ تر سرمایہ ثقافت اور تفریحی منصوبوں میں لگایا گیا۔

سنہ 2018 میں شروع ہونے والا یہ پروگرام ویژن 2030 کے اہداف میں شامل ہے، جس کا مقصد پُرجوش، خوشحال اور زندگی کے معیار سے ہم آہنگ معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ اس پروگرام نے ایسے ضوابط متعارف کرائے ہیں جو نجی سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں۔

"جودہ الحيات" ویژن 2030ء کے 10 سٹریٹجک اہداف پر عملدرآمد کے لیے چھ مختلف شعبوں میں 173 سے زیادہ اقدامات پر کام کر رہا ہے، جن میں سیاحت، ثقافت و ورثہ، کھیل، تفریح، شہری ڈیزائن اور سکیورٹی شامل ہیں۔

خالد البکر کے مطابق پروگرام 42 کارکردگی اشاریوں کے ذریعے اپنے اثرات کا تعین کرتا ہے، اور اب تک مملکت کی معیشت میں 74 ارب ریال (20 ارب ڈالر) کا حصہ ڈالا ہے، جو ہدف سے 102 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2024ء میں پروگرام کے تحت مقامی مواد کا تناسب 39 فیصد رہا، جو متوقع 36 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ متعلقہ شعبوں میں تین لاکھ 68 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔

ثقافتی مکانات اور فنون کی ترقی

گذشتہ برس تین "ثقافتی مکانات" دمام، احد رفیدہ اور ریاض میں قائم کیے گئے تاکہ یہ فنون اور علم کے مراکز بن سکیں۔ اسی ضمن میں جدہ میں "ٹیم لیب" میوزیم کھولا گیا، کنگ فہد کلچرل سینٹر کو دوبارہ فعال کیا گیا، اور "جاکس" میوزیم میں جدید فنون کی نمائشوں کا آغاز ہوا۔ علاوہ ازیں، 21 فلمی و ٹی وی معاہدے کیے گئے تاکہ سعودی ثقافت کو تخلیقی صنعتوں میں اجاگر کیا جا سکے۔

سیاحت اور کھیلوں میں نمایاں پیش رفت

سنہ 2024ء میں مملکت میں سیاحتی دوروں کی تعداد 11 کروڑ 59 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ سیاحت کا ملکی معیشت میں حصہ 4.4 فیصد تک پہنچا۔ اس دوران 87 ہزار سے زیادہ تربیتی مواقع فراہم کیے گئے۔ کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں ترقی ہوئی، اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کرنے والوں کا تناسب 58.5 فیصد تک پہنچ گیا — جو ایک غیر معمولی اضافہ ہے۔

شہری منظرنامے میں بہتری اور سبز منصوبے

خالد البکر نے بتایا کہ شہری ڈیزائن کی پہلوں نے شہروں کے منظرنامے کو بہتر بنایا ہے۔ 149 نئی پارکیں قائم کی گئیں، 62 شہری منصوبے مکمل ہوئے، اور ایک ملین سے زائد درخت لگائے گئے۔ مزید 7 ملین درخت اور جھاڑیاں مملکت بھر میں لگائی گئیں تاکہ سبز فضا کو فروغ دیا جا سکے۔

بلدیاتی خدمات اور سرمایہ کاری

پلیٹ فارم "فرص" کے ذریعے 2024ء میں 11 ہزار سے زیادہ سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے گئے جن کی مالیت 5 ارب ریال ہے، جبکہ "بلدی" پلیٹ فارم کے 1 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔ شہری خدمات سے اطمینان کی شرح 87 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

تفریحی تقریبات اور عالمی ایونٹس

"جولہ المملكہ" کے تحت 13 شہروں میں 23 پروگرام منعقد ہوئے جبکہ 40 سے زیادہ عالمی تقریبات میں "Joy Awards" اور "UFC Night" شامل تھیں، جنہوں نے سعودی عرب کو عالمی تفریحی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔

ثقافت اور ورثے کا فروغ

پروگرام کے تحت 3 ہزار سے زیادہ ثقافتی دن منائے گئے اور قومی ورثے کی 201 مقامات عام افراد کے لیے کھولے گئے۔ ثقافتی شعبے میں 2 لاکھ 34 ہزار سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں۔

سکیورٹی خدمات میں نمایاں بہتری

سکیورٹی کے میدان میں "جودہ الحياہ" پروگرام نے وزارت داخلہ کے تعاون سے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ خدمات سے اطمینان کی شرح 99.85 فیصد رہی۔ مدینہ منورہ میں نیا "911 آپریشنز سینٹر" قائم کیا گیا، اور ریاض میں چھ موبائل پولیس مراکز نے کام شروع کیا۔

"یکساں جرائم کے اعدادوشمار" کے نظام نے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیٹا کی فراہمی ممکن بنائی، جس سے سکیورٹی پالیسیوں میں بہتری آئی۔

خالد البکر کے بقول، یہ تمام کامیابیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ مملکت میں ثقافت، تفریح، سیاحت، کھیل اور سکیورٹی ، سب مل کر ایک ایسی متوازن اور خوشحال زندگی کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو ویژن 2030ء کے اہداف کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں