فیصلے کا اختیار ریاست کے پاس ہے ... لبنانی ذرائع کا حزب اللہ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حزب اللہ کی جانب سے لبنانی ریاست اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی مخالفت کے بعد، لبنانی ذرائع نے موقف اختیار کیا ہے کہ صدر جوزف عون آئین کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔

ذرائع نے آج جمعرات کو العربیہ/الحدث سے گفتگو میں زور دے کر کہا کہ ریاست ہی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مذاکرات کرے یا نہ کرے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ "کسی بھی فریق کو یہ حق نہیں کہ وہ ریاست کے کردار کو ختم کرے۔"

یہ رد عمل اس وقت سامنے آیا جب حزب اللہ نے آج اس سے پہلے اعلان کیا کہ وہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ کسی سیاسی مذاکرات میں "کھینچنے" کی کسی کوشش کو مسترد کرتی ہے۔

تنظیم نے زور دے کر کہا کہ اسے "قبضے کے خلاف مزاحمت کا جائز حق حاصل ہے۔"

حزب اللہ نے صدرِ جمہوریہ جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام اور پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری کے نام ایک کھلا خط بھیجا، جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے اُس جنگ بندی کی پاسداری نہیں کی جو ایک سال قبل دونوں کے درمیان طے پائی تھی۔

تنظیم نے مزید کہا کہ "لبنان اس وقت صرف جارحیت کے خاتمے سے تعلق رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا لالچ کے تحت اسرائیل کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا ہرگز حصہ نہیں بنے گا۔"

اسی بیان میں حزب اللہ نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اسے "قبضے اور جارحیت کے خلاف مزاحمت اور ملک کے دفاع کا جائز حق حاصل ہے، خاص طور پر ایک ایسے دشمن کے خلاف جو جنگ مسلط کر رہا ہے اور ریاست کو تابع بنانا چاہتا ہے۔"

دوسری جانب لبنانی صدر نے گزشتہ چند مہینوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی تھی۔
شام اور لبنان کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹوم براک نے بھی گزشتہ ہفتے کے روز، لبنان پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے۔ یہ بات فرانس پریس نے بتائی۔

یاد رہے کہ نومبر 2024 میں حزب اللہ ایک تباہ کن جنگ کے بعد شدید طور پر کمزور حالت میں سامنے آئی تھی۔ وہ جنگ ایک سال تک جاری رہی اور غزہ کی پٹی میں شروع ہونے والی لڑائی کے ساتھ ساتھ بھڑکی تھی۔

بعد ازاں امریکی ثالثی کے نتیجے میں ہونے والی فائر بندی کے معاہدے نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کو ختم کیا۔

اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ فوجی کارروائیاں بند کی جائیں گی، حزب اللہ جنوبی دریائے لیطانی (سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور) کے علاقے سے نکل جائے گی، اپنی فوجی تنصیبات اور اسلحہ ختم کرے گی اور اسرائیل جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

پانچ اگست کو لبنانی حکومت نے با ضابطہ طور پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا اور لبنانی فوج کو اس مقصد کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

تاہم، اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے پانچ سے زیادہ مقامات پر اپنی افواج برقرار رکھیں اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فضائی حملے جاری رکھے۔ اس کا عویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے کمانڈروں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے گزشتہ اتوار کو خبردار کیا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے تیز کر سکتی ہے۔

علاوہ ازیں وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ پر دوبارہ اسلحہ جمع کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے لبنانی حکومت سےمطالبہ کیا کہ وہ تنظیم کے غیر مسلح ہونے کو یقینی بنائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں