لبنان میں جنگ نہیں چاہتے، ضرورت پڑی تو ہچکچائیں گے بھی نہیں: اسرائیلی عہدیدار

لبنان کے ساتھ کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں: العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک اسرائیلی عہدیدار نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا ہے کہ اسرائیل لبنان میں جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس سے ہچکچائے گا بھی نہیں۔

اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ حزب اللہ جنوب میں اپنی پوزیشن دوبارہ مضبوط کر رہا ہے جس سے ایک نئی جنگ کا خطرہ ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لبنانی حکومت کی طرف سے جنوبی لبنان میں اسلحہ جمع کرنے میں سستی کی جارہی ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے یہ بھی ذکر کیا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن بغیر کسی پیشگی شرط کے۔

منگل کو لبنانی صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ ملک کے جنوب میں اسرائیلی افواج کی کچھ مقامات پر مسلسل موجودگی ریاست کے ہاتھ میں اسلحہ محدود کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہے۔ گزشتہ 5 اگست کو لبنانی کابینہ نے حزب اللہ کے ہتھیاروں سمیت تمام اسلحہ کو ریاست کے ہاتھ میں محدود کرنے اور فوج کو 2025 کے اختتام سے پہلے ایک منصوبہ تیار کرنے اور نافذ کرنے کا کام سونپنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے ایک سے زیادہ مواقع پر کہا ہے کہ پارٹی اسے مسترد کرتی ہے۔

جوزف عون نے منگل کو نشاندہی کی ہے کہ لبنانی فوج نومبر 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے بعد لیطانی کے جنوب میں تعیناتی کے بعد سے اپنے فرائض مکمل طور پر انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعیناتی ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے کیونکہ اسرائیل کا لبنانی علاقوں پر قبضہ جاری ہے اور تل ابیب معاہدے کی شقوں پر عمل نہیں کر رہا۔

لبنانی صدر نے ایک بار پھر زور دیا کہ قبضے اور اس کے نتائج کو ختم کرنے کا راستہ مذاکرات کا آپشن ہے۔ عون نے اشارہ کیا کہ فوج ریاست کے ہاتھ میں اسلحہ کو محدود کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ نافذ کر رہی ہے اور کابینہ کو وقتاً فوقتاً رپورٹیں پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مسلسل قبضہ اس منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں