تہران امن کا خواہاں ہے لیکن اسے جھکایا نہیں جاسکتا: ایرانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے پر مجبور نہیں ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے اپنے خلاف امریکی پابندیاں ہٹائے جانے کے بارے میں بات کی۔

"ہم بین الاقوامی فریم ورک کے تحت مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ کہیں کہ آپ کے پاس (ایٹمی) سائنس نہ ہوں یا ہمیں (میزائل کے ساتھ) اپنے دفاع کا حق نہیں ہے یا یہ کہ ہم آپ پر بمباری کریں گے تو مذاکرات نہیں ہوں گے،" پیزشکیان نے کہا۔

ایران بارہا اپنی دفاعی صلاحیتوں بشمول میزائل پروگرام اور اپنی سرزمین پر یورینیم کی تمام افزودگی ترک کر دینے کے مطالبے پر مذاکرات کے امکان کو مسترد کر چکا ہے۔

پیزشکیان نے کہا، "ہم اس دنیا میں امن و سلامتی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن ذلیل نہیں ہونا چاہتے اور یہ قابلِ قبول نہیں ہے کہ وہ جو چاہیں،ہم پر مسلط کر دیں اور ہم صرف ان کی بجاآوری کریں"۔

اسرائیل ایران کو اپنی بقا کے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ لیکن ایران کہتا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل جن کی حد 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) تک ہے، وہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممکنہ علاقائی اہداف کے خلاف ایک اہم حفاظتی اور انتقامی قوت ہیں۔ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش سے انکار کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں