ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے پر مجبور نہیں ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے اپنے خلاف امریکی پابندیاں ہٹائے جانے کے بارے میں بات کی۔
"ہم بین الاقوامی فریم ورک کے تحت مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ کہیں کہ آپ کے پاس (ایٹمی) سائنس نہ ہوں یا ہمیں (میزائل کے ساتھ) اپنے دفاع کا حق نہیں ہے یا یہ کہ ہم آپ پر بمباری کریں گے تو مذاکرات نہیں ہوں گے،" پیزشکیان نے کہا۔
ایران بارہا اپنی دفاعی صلاحیتوں بشمول میزائل پروگرام اور اپنی سرزمین پر یورینیم کی تمام افزودگی ترک کر دینے کے مطالبے پر مذاکرات کے امکان کو مسترد کر چکا ہے۔
پیزشکیان نے کہا، "ہم اس دنیا میں امن و سلامتی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن ذلیل نہیں ہونا چاہتے اور یہ قابلِ قبول نہیں ہے کہ وہ جو چاہیں،ہم پر مسلط کر دیں اور ہم صرف ان کی بجاآوری کریں"۔
اسرائیل ایران کو اپنی بقا کے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ لیکن ایران کہتا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل جن کی حد 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) تک ہے، وہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممکنہ علاقائی اہداف کے خلاف ایک اہم حفاظتی اور انتقامی قوت ہیں۔ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش سے انکار کرتا ہے۔