جنوبی افریقہ نے 153 فلسطینیوں کو 12 گھنٹے بعد جہاز سے اترنے کی اجازت دے دی

مسافروں کے پاسپورٹس پر واپسی کی مہر نہیں لگی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حکام نے بتایا کہ 150 سے زائد فلسطینی جنہیں جنوبی افریقہ کی سرحدی پولیس نے 12 گھنٹے تک ایک طیارے میں رکھا ہوا تھا، انہیں بالآخر جمعرات کی شام طیارے سے اترنے کی اجازت دے دی گئی۔

سرحدی پولیس کے مطابق 153 فلسطینیوں کو لے جانے والا طیارہ جمعرات کی صبح مقامی وقت آٹھ بجے کے فوراً بعد او آر ٹمبو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتر گیا۔

پولیس نے کہا کہ مسافروں کو ہوائی جہاز سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ان کے "پاسپورٹ پر روانگی کی روایتی مہریں نہیں لگی تھیں۔" پولیس نے مزید کہا کہ کسی نے بھی "پناہ کی درخواست دینے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا۔"

این جی او گفٹ آف دی گوِرز نے انہیں رہائش فراہم کرنے کی ضمانت دی تھی جس کے بعد وزارتِ داخلہ نے آخرِکار مسافروں کو جہاز سے اترنے کی اجازت دے دی۔

سرحدی پولیس کے مطابق کل 130 افراد ملک میں داخل ہوئے اور 23 اپنی مرضی کے دوسرے مقام سے رابطہ قائم ہونے کے منتظر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ جنوبی افریقی ایئرلائن گلوبل ایئرویز کے زیرِ انتظام ایک چارٹرڈ طیارہ تھا جو کینیا سے سفر کر رہا تھا۔

لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ فلسطینی کن حالات میں وہاں سے روانہ ہوئے تھے اور طیارے کا صحیح راستہ کیا تھا۔

گفٹ آف دی گوِرز کے بانی امتیاز سلیمان نے نشریاتی ادارے SABC کو بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ طیارہ کس نے چارٹر کیا تھا اور قبل ازیں ایک طیارہ 176 فلسطینیوں کو لے کر 28 اکتوبر کو جوہانسبرگ میں اترا تھا جن میں سے بعض مسافر دوسرے ممالک کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا، "اس پہلے گروپ کے اہلِ خانہ نے کل ہمیں بتایا کہ ان کے خاندان کے افراد دوسرے طیارے پر آرہے تھے اور کسی کو اس طیارے کے بارے میں نہیں معلوم تھا۔ حکومت کو اس بات کی تحقیقات کرنا ہوں گی کہ لوگ چارٹرڈ طیاروں پر مہروں کے بغیر کیسے آ رہے ہیں۔ اسرائیل نے ان کے پاسپورٹ پر مہر نہیں لگائی اس لیے وہ غیر قانونی طور پر سفر کر رہے ہیں۔"

جنوبی افریقہ جو سب صحارا افریقہ میں سب سے بڑی یہودی برادری کا مسکن ہے، بہت حد تک فلسطین کی حمایت کرتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں