لبنان : نئے امریکی سفیر حزب اللہ پر دباؤ بڑھا دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں بطور نئے امریکی سفیر تعینات ہونے والے مائیکل عیسیٰ نے پیر کے روز اپنی اسناد سفارت صدر جوزف عون کو پیش کیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سفیر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ ادا کرنا شروع کر دی ہیں۔

نئے سفیر کی ذمہ داریوں کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر اپنا دباؤ غیر معمولی طور پر بڑھا رکھا ہے۔ امریکہ کا یہ دباؤ ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپ پچھلے ایک سال سے غیر معمولی طور پر نمایاں ہے۔

نئے سفیر 14 نومبر کو بیروت پہنچے تھے۔ انہوں نے صدر جوزف عون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا اور امریکی صدر کی اس خواہش سے آگاہ کیا کہ وہ لبنان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم اور کثیر جہتی دیکھنا چاہتے ہیں۔

صدر جوزف نے نئے امریکی سفیرب کے لیے ' ایکس ' پر لکھے گئے اپنے پیغام میں ان کی کامیابی کے لیے تمناؤں کا اظہار کیا۔

امریکی سفیر نے صدر جوزف عون سے ملاقات سے پہلے لبنانی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی اور ان کے توسط سے اپنی دستاویزات صدر جوزف عون کے دفتر پہنچائیں۔

لبنانی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق نئے امریکی سفیر لبنان میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ جس کے بعد اپنا بچپن لبنان میں گزارنے کے بعد فرانس منتقل ہو گئے۔

اب ان کی بطور امریکی سفیر ایسے وقت میں تعیناتی ہوئی ہے جب لبنان پر اسرائیل اور امریکہ کا دباؤ بیک وقت موجود ہے تاکہ لبنانی حکومت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرے۔ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں لبنانی حکومت کو کافی زیر دباو رکھا ہوا ہے۔

امریکہ نے حزب اللہ کے لیے فنڈنگ کے راستے بند کرنے کی مہم بھی شروع کر رکھی ہے اور حالیہ دنوں میں حزب اللہ کو فنڈنگ کے سلسلے میں کئی ایرانی اداروں پر پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ امریکہ اس سال کے اختتام تک حزب اللہ کو غیر مسلح چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں