ایران علاقائی اور روسی کوششوں کے بیچ کابل اور اسلام آباد کے درمیان ثالثی کر رہا ہے

کابل میں طالبان حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران اس وقت کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک علاقائی اجلاس منعقد کرنے پر کام کر رہا ہے اور اس اقدام کا پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین انداربی نے کہا ہے کہ اسلام آباد "ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے پُر امن حل کی حمایت کرتا ہے اور ہم ایران جیسے برادر ملک کی ثالثی کی قدر کرتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس "ٹھوس شواہد" ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ کچھ سیکیورٹی خلاف ورزیاں افغان سرزمین کے اندر کی جاتی ہیں۔

یہ موقف ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بیان کے ساتھ سامنے آیا جو انھوں نے اس ہفتے تہران میں ایک کانفرنس کے موقع پر دیا۔ عراقچی نے واضح کیا کہ ان کا ملک "گزشتہ دنوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکون قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے"۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تہران ایک "علاقائی اجلاس" کی تیاری پر کام کر رہا ہے جو متعلقہ فریقوں کو اکٹھا کرے گا۔

طالبان کی حکومت نے اب تک کوئی با ضابطہ موقف جاری نہیں کیا تاہم تحریک کی کچھ شخصیات پہلے ہی "مکالمے" کے راستے پر اپنی وابستگی پر زور دے چکی ہیں۔

اس سے قبل استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور ناکامی کا شکار ہوا، جس میں ترکیہ اور قطر بطور ثالث شامل تھے۔ یہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے اگرچہ بات چیت کے پہلے دور میں طے پانے والی جنگ بندی کی پاسداری برقرار تھی۔ مصالحت کی یہ کوششیں دونوں ممالک کے درمیان 11 اکتوبر کو ہونے والی خون ریز سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی تھیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی" (فارسی) کے صحافی فرہاد محمدی کے تجزیے کے مطابق تہران کا ثالث کا کردار ادا کرنے پر اصرار اس کے تزویراتی محرکات سے جڑا ہوا ہے۔ ایران سب سے پہلے اپنی مشرقی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے، ایسے وقت میں جب اس کے اسرائیل اور مغرب کے ساتھ سلگتے ہوئے تنازعات کا کوئی حل سامنے نہیں آیا۔ ایرانی حکام کو خاص طور پر پاکستان اور افغانستان میں مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے تشویش ہے، خاص طور پر ایران کی سرحد کے قریب ان علاقوں میں جہاں بلوچ تنظیم "جیش العدل" فعال ہے۔ ایران کا خیال ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کوئی بھی کشیدگی ان گروہوں کو پھیلاؤ کا موقع فراہم کرے گی۔

اقتصادی سطح پر عالمی پابندیوں نے تہران کو پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ عراقچی نے پہلے بھی اشارہ کیا تھا کہ "ایران اور افغانستان کے درمیان با ضابطہ تجارت کی سطح یورپ کے ساتھ تجارت سے زیادہ ہو چکی ہے"۔ انہوں نے کابل اور اسلام آباد کے ساتھ وسیع امکانات پر مبنی تعاون کے وجود کی تصدیق کی۔

تہران کا ماننا ہے کہ ایرانی صوبہ بلوچستان کے جنوبی حصے میں واقع بندرگاہ چاہ بہار کو فعال بنانا اور وسطی ایشیا تک تجارتی راہ داریوں کو مضبوط کرنا، ایک مستحکم افغانستان کا تقاضا کرتا ہے۔

ایران یہ بھی ترجیح دیتا ہے کہ علاقائی بحرانوں کا سامنا خطے کے ممالک خود کریں، دور دراز کی عالمی طاقتیں نہیں۔ اس کا خیال ہے کہ اگر وہ دونوں ہمسایہ ممالک کے بیچ ثالثی میں کامیاب ہو جائے تو اس کی حیثیت ایک اہم علاقائی کردار کے طور پر مضبوط ہو گی۔

ان سفارتی سرگرمیوں کے متوازی ... پاکستانی میڈیا نے بتایا ہے کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ "تحریری ضمانت" فراہم کرے جو استحکام کی راہ ہموار کرے۔ مزید یہ کہ یہ تحریری ضمانت دوست ممالک مثلاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، ایران اور چین کی ضمانت سے تقویت پائے۔

پاکستان کئی سالوں سے یہ موقف رکھتا ہے کہ مسلح گروہ افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان اس کی نفی کرتے ہیں اور اسلام آباد پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنی سیکیورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری کابل پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی علاقائی سفارتی عمل کے دوران ایک نمایاں پیش رفت سامنے آئی جب ایرانی نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے خبر رساں ایجنسی "ریا نووسٹی" کو اس بات کی تصدیق کی کہ روسی صدر ولادی میر پوتین کی تہران آمد اس وقت ایجنڈے پر موجود ہے۔ اس سے تہران کی علاقائی اور عالمی ترجیحات کے درمیان باہمی ربط کی جھلک ملتی ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت سامنے آ رہی ہیں جب ایران ... روس اور چین کی شرکت کے ساتھ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران علاقائی مکالمے کی میزوں پر اپنا کردار مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں