اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے نائب سربراہ ھیثم علی طبطبائی کو نشانہ بنایا گیا

طبطبائی ایرانی نژاد ہیں اور امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے دہشت گرد نامزد ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بیروت کے جنوبی مضافات کا علاقہ ضاحیہ ایک بار پھر اس وقت سرخیوں میں آ گیا جب اتوار کی دوپہر کو اسرائیلی فوج نے اس پر دوبارہ حملہ کردیا۔ اس کارروائی میں ’’ حزب اللہ ‘‘ کے نائب سربراہ ایرانی نژاد ہیثم علی طبطبائی کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوئے۔ حزب اللہ نے ھیثم علی طبطبائی کی زندگی یا موت کے حوالے سے وضاحت نہیں کی اور صرف اتنا کہا کہ نشانہ ایک بڑا فوجی کمانڈر تھے۔

یہ نشانہ لبنان کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں ہوا جو حالیہ عرصے میں زیادہ تر جنوب اور بقاع پر مرکوز تھی۔ اس کے ساتھ اسرائیلی عہدیداروں کی طرف سے جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کی مسلسل دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔ اتوار کی صبح اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی حملے کی اطلاع دی۔ نیتن یاہو نے حزب اللہ کو اپنی صلاحیتوں کی از سر نو تعمیر سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے کی تصدیق کی۔

لبنانی صدر کا کشیدگی ختم کرانے کا مطالبہ

یہ کارروائی لبنانی صدر جوزف عون کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ بحران کے پائیدار حل کے لیے ایک اقدام شروع کرنے کے دو دن بعد ہوئی ہے جس میں استحکام کو یقینی بنانے اور اگلے اقدامات کو عرب موقف سے جوڑنے کی تجویز دی گئی تھی۔ جوزف عون نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر ضاحیہ کو نشانہ بنانا ایک اور ثبوت ہے کہ اسرائیل لبنان پر اپنے حملوں کو روکنے کی بار بار کی جانے والی درخواستوں کی پروا نہیں کرتا۔ اسرائیل بین الاقوامی قراردادوں اور کشیدگی کو ختم کرنے اور پورے علاقے میں استحکام بحال کرنے کے لیے پیش کی جانے والی تمام کوششوں اور اقدامات کو لاگو کرنے سے انکار کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان، جس نے تقریباً ایک سال سے فوجی کارروائیوں کو روکنے کا وعدہ کیا ہے اور ایک کے بعد ایک پہل کی ہے، عالمی برادری سے اپنی ذمہ داری لینے اور لبنان اور اس کے عوام پر حملوں کو روکنے کے لیے بھرپور اور سنجیدہ مداخلت کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ایک طرف علاقے میں دوبارہ کشیدگی پیدا کرنے والی کسی بھی خرابی کو روکا جا سکے اور مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔

وزیر اعظم نواف سلام کا مطالبہ

دوسری طرف لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر کہا کہ آج جنوبی بیروت پر حملہ ریاست اور اس کے اداروں کے پیچھے تمام کوششوں کو متحد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانیوں کی حفاظت اور ملک کو خطرناک راستوں پر جانے سے روکنا اس نازک مرحلے میں حکومت کی ترجیح ہے۔ یہ اتحاد لبنانیوں کی حفاظت اور کسی بھی کھلی کشیدگی کو روکنے کے لیے اسرائیل کے حملوں کو روکنے اور ہماری زمین سے اس کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ استحکام کو مضبوط کرنے کا واحد راستہ قرارداد 1701 کا مکمل نفاذ، ریاست کی اپنی خود مختار قوتوں کے ساتھ اپنی تمام سرزمین پر بالادستی اور لبنانی فوج کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے قابل بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں