العُلا میں قدیم نقوش اور زبانوں کی توثیق کے لیے سب سے بڑے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا منصوبہ
مختلف زبانوں کے متون کے تجزیے کے ذریعے
العلاء روئل کمیشن کے سرکاری ترجمان عبدالرحمٰن الطریری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع تاریخی علاقے العُلا میں دریافت شدہ نقوش کی توثیق اور تجزیے کے لیے سب سے بڑا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ ڈیٹا بیس آثارِ قدیمہ کے تفصیلی جائزوں کے دوران درج کیے گئے 25 ہزار سے زائد نقوش پر مشتمل ہے۔ ان معلومات کی مدد سے العُلا میں عربی زبان اور قدیم شمالی سامی زبانوں کی ارتقائی تاریخ کا مطالعہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ تحقیقی منصوبہ العُلا کے مختلف مقامات پر ملنے والے نقوش کا ایک جامع ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنے سے متعلق ہے۔
اس کے ذریعے قدیم زبانوں میں لکھے گئے متون کا لسانی مطالعہ، مختلف تحریروں کی شناخت اور قدیم معاشروں کی سماجی وثقافتی روایتوں کے بارے میں سائنسی معلومات میں اضافہ کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ العُلا کو ایک ایسی ثقافتی، تحقیقی اور علمی منزل کے طور پر مزید نمایاں بناتا ہے جس کی تہذیبی تاریخ کئی ادوار پر پھیلی ہوئی ہے۔
عبدالرحمٰن الطریری نے بتایا کہ یہ منصوبہ شمالی جزیرہ عرب کی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر نقوش کا تجزیہ کر رہا ہے، جس سے اسلام سے پہلے عربی زبان کے ارتقائی سلسلے کو سمجھنے میں مدد ملے گی ... اور وادی القریٰ سمیت قدیم تجارتی راستوں پر موجود بستیوں کے ثقافتی روابط بھی بہتر انداز میں سامنے آئیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اس وسیع تحقیق سے محققین کو قدیم ادوار کی روز مرہ زندگی، شناخت اور اظہار کے طریقوں کو نئے زاویوں سے سمجھنے کا موقع ملے گا۔
انھوں نے واضح کیا کہ منصوبہ اس وقت ابھی ابتدائی سائنسی تجزیے کے مرحلے میں ہے۔
کام کے طریقہ کار کے بارے میں الطریری نے بتایا کہ منصوبہ عالمی معیارات کے مطابق ایک جامع طریقہ کار اپنائے ہوئے ہے۔ اس میں لسانیاتی تجزیہ، اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل دستاویزی شکل دینا، پیشہ ورانہ فوٹوگرافی اور ڈیجیٹل ڈرائنگ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اہم نقوش کا تھری ڈی اسکین اور جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) کے ذریعے نقوش کو ان کے مکانی و ثقافتی پس منظر سے جوڑنا بھی شامل ہے تاکہ معلومات کی صحت اور پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔
منصوبے میں بین الاقوامی سطح پر متعدد اکیڈمک شراکتیں بھی شامل ہیں، جن میں بیلجیم کی گینٹ یونیورسٹی (دنیا کی اعلیٰ 100 جامعات میں سے ایک) کے ساتھ سائنسی تعاون شامل ہے۔
اسی طرح ایک بین الاقوامی مشاورتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں قدیم شمالی عربی زبانوں اور نقوش کے ممتاز ماہرین شامل ہیں۔
-
’’ ہیلی گوبی ‘‘ آتش فشاں کے اخراج نے ہماری فضا کو متاثر نہیں کیا: سعودی عرب
کسی بھی مؤثر موسمیاتی مظہر کے لیے ضروری اقدامات کریں گے: نیشنل سینٹر فار ...
مشرق وسطی -
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدے، سلامتی امور اور دہشت گردی سے نمٹنے پر تبادلہ خیال
پاکستان اور سعودی عرب نے حال میں کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے کے پس منظر میں سلامتی ...
پاكستان -
سعودی عرب میں''ہائیلی گوبی''آتش فشاں کےبعدتابکاری کےآثارنہیں ہیں: نیوکلیئرنگران ایجنسی
سعودی عرب کی نیوکلیئر اور تابکاری کی نگران ایجنسی نے ''ہائیلی گوبی'' (Hayli ...
مشرق وسطی