پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدے، سلامتی امور اور دہشت گردی سے نمٹنے پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان اور سعودی عرب نے حال میں کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے کے پس منظر میں سلامتی کو درپیش امور اور دہشت گردی کے چیلنج پر تفصیلی غور کیا ہے۔ تاکہ مسائل سے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نمٹا جا سکے۔ اس مشاورت کا اہتمام سعودی عرب کے فوجی سربراہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر پیر کے روز کیا گیا۔

سعودی آرمی چیف جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کے بعد وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور سول حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ ملاقاتیں ستمبر میں ہونے والے دفاعی معاہدے کی روشنی میں امور کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر غور کے لیے تھیں۔

ان ملاقاتوں میں عالمی اور علاقائی منظر نامے اور رونما ہونے والے حالیہ واقعات و تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تاکہ دوطرفہ تعلقات اور معاہدات کو مزید گہرا کیا جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا انہیں اور مضبوط کرنا ہوگا۔ جن میں دفاعی سلامتی امور کے ساتھ ساتھ معاشی شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہر طرح کی دہشتگردی کو ختم کر کے ہی خطے میں امن کا فروغ اور استحکام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر سعودی آرمی چیف الرویلی نے سعودی قیادت کی طرف سے وزیر اعظم کو نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور مملکت کے اس عزم کو دہرایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شاندار دفاعی اور تزویراتی شراکت کے لیے کمٹڈ ہے اور اسے پاکستان کے ساتھ مل کر مزید بلندیوں تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔

یاد رہے دونوں ملکوں کے درمیان ماہ ستمبر میں ہونے والے دفاعی معاہدے 'ایس ایم ڈی اے' نے دونوں ملکوں پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ اگر کوئی ایک ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے گا تو دوسرا ملک اس جارحیت کو اپنے خلاف سمجھے گا۔

یہ دفاعی معاہدہ اس وقت کیا گیا جب مشرق وسطیٰ میں انتہائی پرتشدد ماحول چل رہا تھا اور خلیجی ملک پر بھی حملے ہوئے تھے۔

'آئی ایس پی آر' کے مطابق سعودی آرمی چیف نے پنڈی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ان کی آمد پر 'جی ایچ کیو' میں ان کا خیر مقدم کیا اور انہیں 'گارڈ آف آنر' پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کی یادگاروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔

دونوں طرف کے فوجی سربراہان نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور دو طرفہ تذویراتی معاہدوں اور فوجی تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔ دونوں عسکری قائدین نے دفاعی تعاون اور اشتراک کی مستقبل میں مزید اہمیت کو اجاگر کیا۔ سلامتی و دہشت گردی کے حوالے سے صورتحال کے لیے بھی مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔

سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے موجود ہیں اور سعودی عرب سے ہر سال ان پاکستانیوں کی وجہ سے پاکستان کو 400 ارب ڈالر ترسیلات زر کی صورت میں موصول ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size