دو سال سے زائد لڑی جانے والی اسرائیلی جنگ کو غزہ میں رکوانے والے ثالث ملکوں کے وفود نے منگل کے روز قاہرہ میں جنگ بندی کی موجودہ صورت حال اور اگلے مرحلے کی چیزوں کو عملی شکل دینے کے لیے باہم تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان ثالث ملکوں کے ساتھ امریکی حکام بھی موجود تھے۔ جو صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے کے تحت چیزوں کو دیکھتے ہیں۔
القاہرہ نیوز کے مطابق اس مشاورتی میٹنگ میں ترکیہ اور مصر کے انٹیلی جنس سربراہان نے شرکت کی جبکہ قطر کے وزیر اعظم شریک ہوئے۔
مختلف ملکوں کے وفود نے امریکی حکام کے ساتھ کامیابی سے منصوبے کو اگے بڑھانے کے لیے ضروری امور پر بات کی۔ تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اب دوسرا مرحلہ بھی شروع ہو سکے۔۔
یاد رہے یہ جنگ بندی معاہدہ دس اکتوبر سے رو بعمل ہے۔ ثالث ملکوں کے وفود کی سطح کی یہ مشاورت حماس کے سربراہ کی مصری حکام سے دو روز پہلے ہونے و الی ملاقاتوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
جنگ بندی کے اگلے مرحلوں میں حماس کو غیر مسلح کرنا ، عبوری حکومت تشکیل دینا اور بین الاقوامی استحکام۔فورس کے علاوہ تعمیر نو کے لیے اقدامات جیسے مراحل شامل ہیں۔
القاہرہ نیوز کے مطابق منگل کے روز کے اجلاس میں معاہدے پر عمل میں رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور خلاف ورزہوں کو بھی نوٹس کیا گیا۔