حزب اللہ کی سرگرمیوں سے شمالی سرحد پر شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے : اسرائیلی عہدے داران
نیتن یاہو نے شمالی سرحد کے حوالے سے ہنگامی سکیورٹی اجلاس منعقد کیا ... پیرس کا اسرائیل سے جنوب لبنان سے واپس جانے کا مطالبہ
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے شمالی سرحد پر لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور تازہ ترین صورت حال پر بات کرنے کے لیے ہنگامی سکیورٹی اجلاس منعقد کیا۔
یروشلم پوسٹ اخبار کے مطابق اسرائیلی حکام نے بتایا کہ تل ابیب اور واشنگٹن کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے کیوں کہ لبنان کی فوج نے دریائے لیطانی کے جنوب سے حزب اللہ کے ہتھیاروں کو ہٹانے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔
حکام نے مزید کہا کہ حزب اللہ تیزی سے اپنی فوجی صلاحیتیں دوبارہ تعمیر کر رہی ہے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اس صورت حال کے برقرار رہنے سے شمالی سرحد پر شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر بھرپور جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی مبینہ تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے اور انہیں تباہ کر دیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کو 27 نومبر کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ امریکی ثالث کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حزب اللہ کے ہتھیار سال کے آخر تک ہٹا دیے جائیں گے۔
اسی سلسلے میں، فرانسیسی ثالث بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکل کونفارو نے "العربیہ" اور "الحدث" سے بات کرتے ہوئے اسرائیل سے لبنان میں موجود مقامات سے واپس جانے کی اپیل کی۔ انھوں نے فریقین سے فائر بندی کے معاہدے پر عمل کرنے کی درخواست کی۔
اگرچہ لبنان کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے پر ایک سال مکمل ہو گیا اور وہاں کے باشندے بتدریج واپس آ رہے ہیں، لیکن اسرائیل کے سرحدی علاقوں کی صورت حال ابھی تک جنگ سے پہلے جیسی نہیں ہوئی۔ بالخصوص اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ پر حملوں میں اضافے کے بعد۔
لبنان کے سرحدی علاقوں میں بھی ہزاروں افراد ابھی تک اپنے دیہات میں واپس نہیں جا سکے اور جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں سے نئی نقل مکانی کے باعث کرائے کی اپارٹمنٹس کی طلب بڑھ گئی ہے۔