کپٹاگون کابحران: ایک گولی نے پورے خطے کو کیسے یرغمال بنا لیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

گزشتہ تقریباً ایک سال سے شام ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جب گزشتہ سال 8 دسمبر کو سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے اور ان کے ماسکو فرار ہونے کے بعد ملک میں ایک طویل دور اختتام پذیر ہوا۔

یوں شام میں تقریباً 54 سالہ حکمران خاندان کا باب بند ہو گیا، جس پر ملک کے مختلف شہروں میں گزشتہ دنوں عوامی سطح پر خوشی کا اظہار بھی دیکھنے میں آیا۔

متعدد شامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس دوران ملک میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور شام ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوا ہے، جسے عبور کرنے اور درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے وقت درکار ہے۔ یہ وہ چیلنجز ہیں ،جن کا سامنا موجودہ صدر احمد الشرع کو کرنا پڑ رہا ہے۔

کپتاگون کی ریاست کو الوداع

اسی تناظر میں دمشق میں مقیم شامی ماہرِ تعلیم نغم قدسیہ نے اسد حکومت کے خاتمے کے ایک سال بعد کی صورتِ حال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا:سیاسی طور پر شام دوبارہ ایک مؤثر ریاست کے طور پر ابھر رہی ہے، جو اپنے عوام کے مفادات کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ ملک نے اپنی وہ نئی تصویر بھی قائم کرنا شروع کر دی ہے جو اسے ایک کپتاگون(Captagon) برآمد کرنے والی ریاست کے بجائے اندرونی استحکام کی جانب بڑھتے ہوئے ملک کے طور پر پیش کرتی ہے اور اسی استحکام کے ذریعے پورے خطے کے امن میں اپنا کردار ادا کر سکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام اب اپنے ہمسایہ ممالک اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے، کئی برس کی بین الاقوامی تنہائی کے بعد پیدا ہونے والی یہ تبدیلی مستقبلِ قریب میں عوام پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔

اب قطاریں نہیں

دمشق یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغیات کی لیکچرار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ اب لوگوں کو سڑکوں پر قطاریں نظر نہیں آتیں۔ ان کے مطابق:خدمات کے لحاظ سے اب ہمیں ایندھن، روٹی یا دیگر بنیادی سہولتوں کے لیے لمبی قطاریں دکھائی نہیں دیتیں۔ زیادہ تر ضروریات زندگی اب نسبتاً آسانی سے دستیاب ہیں، اگرچہ اقتصادی مشکلات اور نقدی کے بحران کا سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف اشارے اس بات کی طرف دکھائی دیتے ہیں کہ شام آہستہ آہستہ معاشی بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات بتدریج عوام کی روزمرہ زندگی پر ظاہر ہوں گے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصل چیلنج اس بات میں ہے کہ کیا شامی معاشرہ دوبارہ ایک مضبوط، باہم جڑا ہوا سماجی ڈھانچہ تشکیل دے سکے گا،ایسا معاشرہ جو زخموں سے اوپر اٹھ کر اختلافِ رائے کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔


تنہائی سے نکلنے کا سفر

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اور ماہرِ تعلیم احمد کنعانی نے کہا کہ بلا شبہ اسد حکومت کا سقوط ایک بڑا سیاسی موڑ تھا، لیکن اس کے بعد ایک ہی سال میں کئی تیز رفتار تبدیلیاں سامنے آئیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ شام اپنی بین الاقوامی تنہائی سے باہر آ چکا ہے۔ صدر احمد الشرع کی مغرب کے ساتھ کھلی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں سعودی اور ترک سفارت کاری کی وساطت سے سیزر پابندیاں اٹھا لی گئیں۔ اس کے بعد الشرع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقاتیں ہوئیں اور یورپ کے ساتھ بھی رابطوں کا آغاز کیا گیا۔ یوں شام مکمل طور پر مشرقی بلاک سے نکل کر مغربی بلاک کے قریب آ گیا، جو نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کا بڑا کارنامہ ہے۔

تاہم ان کے مطابق اس کا یہ مطلب نہیں کہ شام اب چیلنجز سے محفوظ ہو گیا ہے۔کنعانی کے مطابق ملک داخلی طور پر ایک تقسیم شدہ منظرنامہ اختیار کر چکا ہے۔ ساحلی علاقوں اور السویداء میں کشیدگی، اور شمال مشرق میں شامی ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کا سیاسی و عسکری معاملات پر مارچ کے معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف یہ سب داخلی عدم اعتماد اور خوف کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ عبوری دور کی نوعیت کے باعث سیاسی عمل عملی طور پر معطل ہے۔واضح رہے کہ اسد حکومت کے خاتمے کے چند ماہ بعد شام کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی تھی، جیسا کہ ساحل کے علاقے اور بعد میں جنوبی صوبہ السویداء میں۔اسی طرح حکومتِ دمشق نے مارچ میں قسد کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جو متعدد رکاوٹوں کے باعث ابھی تک نافذ نہیں ہو سکا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں