شام میں امریکی حملہ داعش کے رہنما کے بجائے خفیہ ایجنٹ کے قتل کا باعث بن گیا
شام میں گذشتہ اکتوبر میں کیے گئے ایک امریکی فضائی حملے کے بارے میں سامنے آنے والی نئی معلومات نے صورتحال کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ حملہ بہ ظاہر داعش کے ایک اہم رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا لیکن نتیجے میں خالد المسعود مارا گیا جو شدت پسندوں کے بارے میں خفیہ طور پر انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کا کام کرتا تھا۔
خالد المسعود کی ہلاکت کی تصدیق اس کے اہل خانہ اور شامی حکام نے "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو کی۔ ان کے مطابق المسعود کئی برس سے داعش کی نگرانی کر رہا تھا۔ ابتدا میں وہ احمد الشرع (موجودہ شامی صدر) کی قیادت میں سرگرم مسلح گروہوں کے لیے کام کرتا تھا پھر گذشتہ سال بشار الاسد کے سقوط کے بعد بننے والی موجودہ حکومت کے لیے خدمات انجام دیتا رہا۔
داعش کی صفوں میں رسائی
اگرچہ امریکی اور شامی حکام نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک اس معاملے کو سامنے لا کر باہمی تعلقات کی بہتری کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔
اسی حوالے سے نیویارک میں قائم صوفان ریسرچ سینٹر کے ممتاز محقق وسیم نصر کا کہنا ہے کہ المسعود کی موت داعش سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے ’’بڑی رکاوٹ‘‘ بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ المسعود شام کے جنوبی ریگستانی علاقے البادیہ میں داعش کی صفوں میں خفیہ طور پر رسائی حاصل کرتا تھا جو اب بھی تنظیم کے باقی ماندہ عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔
وسیم نصر نے مزید کہا کہ جس حملے میں المسعود مارا گیا وہ ’’اتحادی فورسز اور دمشق کے درمیان رابطے کی کمی‘‘ کا نتیجہ تھا۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس فضائی حملے کے چند ہفتے بعد 19 اکتوبر کو احمد الشرع نے واشنگٹن کا دورہ کیا اور اعلان کیا کہ شام داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہو رہا ہے۔