اسرائیلی پولیس نے مشرقی یروشلم کے علاقے میں اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' کے ہیڈکوارٹرز پر پیر کے روز چھاپہ مارا ہے۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اقوام متحدہ کی جگہ اسرائیل کا جھنڈا لہرا دیا۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی 'انروا' نے اسرائیل کی اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اس فلسطینیوں کی بحالی و بھلائی کے لیے کام کرنے والے ادارے 'انروا' کو اسرائیل ایک جانبدار ادارہ قرار دیتا ہے اور اس پر الزام لگاتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی مدد کرتا ہے۔ جبکہ اس ادارے کا مینڈیٹ ہی بے گھر فلسطینیوں کی مدد کرنا ہے۔
اسرائیلی ریاست نے اقوام متحدہ کے اس ادارے کے کام کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس لیے رواں سال کے آغاز سے ہی 'انروا' کو اپنی دفتری ضروریات اور آپریشنز کے لیے عمارت کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے.
اسرائیلی ریاست نے حکم دے رکھا ہے کہ 'انروا' اپنے پہلے سے موجود دفاتر کو ختم کرے اور اپنے آپریشنز کو روک دے۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان ڈین السڈونے نے کہا ہے کہ پولیس کے ساتھ اس کارروائی کے دوران یروشلم کی میونسپلٹی کے افراد بھی موجود تھے اور جو 'انروا' کے ہیڈکوارٹر پہنچ کر قرضے کی واپسی کے پروسیجر پر عمل کرنے کے لیے پہنچے تھے۔
تاہم 'انروا' کے چیف فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے کہ اسرائیلی پولیس کی یہ کارروائی ان اسرائیلی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جو اقوام متحدہ نے اسرائیل پر ایک ممبر ریاست ہونے کے ناطے عائد کر رکھی ہیں۔ یہ ایک خطرناک مثال ہے جو اسرائیلی پولیس نے 'انروا' کے خلاف قائم کی ہے۔
'انروا' کے ترجمان جوناتھن فالر نے عمان سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'انروا' کا مشرقی یروشلم میں دفتر اقوام متحدہ کا دفتر ہے اور اس کے ذمہ یروشلم میونسپلٹی کے واجبات کی ادائیگی نہیں ہے۔ سارے معاملات بڑے کلیئر اور صاف ہیں۔
دوسری جانب مشرقی یروشلم کی کارپوریشن نے فوری طور پر اس پر تبصرہ نہیں کیا ہے نہ ہی اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس واقعے کے بارے میں تبصرے کی درخواست پر فوری جواب دیا ہے۔
جبکہ 'انروا' کے ہیڈ آفس کی سیکیورٹی پر مامور سیکیورٹی کمپنی کے ذمہ دار جارج خوری کا کہنا ہے کہ پیر کے روز صبح سویرے یروشلم میونسپلٹی اور اسرائیلی پولیس اہلکار ہیڈ آفس پر آدھمکے اور انہوں نے آتے ہی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو بند کر دیا اور کئی گھنٹے تک اس کیفیت میں رکھا۔ بعدازاں بلڈنگ پر اسرائیلی جھنڈا لہرا دیا گیا۔
لازارینی کے مطابق پولیس کے موٹر سائیکلوں پر سوار اہلکار اور ٹرکوں پر سوار اہلکار اندر آئے اور انہوں نے 'انروا' ہیڈ آفس کے مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے۔ جبکہ کمیونیکشن کے آلات اور فرنیچر وغیرہ پر قبضہ کر لیا۔
یاد رہے 'انروا' کا ادارہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے ساتھ 1949 سے کام کر رہا ہے اور اسے اقوام متحدہ نے بے گھر فلسطینیوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیا تھا۔
'انروا' پر غزہ کی حالیہ دو برسوں کی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے جگہ جگہ کارروائیاں کیں، اس کے دفاتر پر بمباری کی اور اس کے اہلکاروں کو قتل کیا اور 'انروا' کی ورکنگ پر مکمل پابندی لگا دی۔ یاد رہے دو سالہ جنگ کے دوران 70 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔
'انروا' کے کارکن مشرقی یروشلم میں بھی ایک طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے نزدیک یروشلم کا یہ علاقہ مقبوضہ علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے باقاعدہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1980 سے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس قبضے کا آغاز 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران ہوا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے ارکان کی غالب اکثریت یروشلم پر اسرائیلی قبضے کو مسترد کرتی ہے۔
-
غزہ میں انخلاء کی لائن ’نئی سرحد‘ ہے: اسرائیلی آرمی چیف
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج زرد لکیر تک محدود ہو گئی ہیں
مشرق وسطی -
حماس کو دوبارہ پاؤں جمانے سے روکنے کے لیے 'یلو لائن' اب غزہ کی نئی سرحد ہے : اسرائیل
الاہلی اسپتال کے صحن میں دفن درجنوں لاشوں کی باقیات نکالنے کا کام شروع کر دیا ...
بين الاقوامى -
نیویارک میں اسرائیل، قطر اور امریکہ کا سہ فریقی اجلاس کا انعقاد
امریکہ، اسرائیل اور قطر نے اتوار کو نیویارک میں سہ فریقی اجلاس منعقد کیا، وائٹ ...
مشرق وسطی