جدہ کتاب میلہ ابھرتا ہوا سعودی ادبی منظر پیش کرنے کے لیے تیار
تقریب کا ثقافتی پروگرام سعودی ورثے کی عکاسی کرتا ہے
سعودی عرب کا لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن (ادب، اشاعت و ترجمہ) کمیشن 11 سے 20 دسمبر تک جدہ سپرڈوم میں جدہ کتاب میلے کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہا ہے جہاں 24 ممالک کے 1,000 سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی اشاعتی ادارے اور ایجنسیاں کتابوں کے 400 بوتھز پر یکجا ہوں گے۔
"جدہ ریڈز" کے عنوان کے تحت منعقدہ یہ میلہ کمیشن کی "سعودی ریڈز" مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد کتاب بینی کی حوصلہ افزائی کرکے سعودی ادبی منظر کو مضبوط بنانا اور مصنفین اور سامعین کے درمیان بامعنی مشغولیت پیدا کرنا ہے۔
کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر عبداللطیف الواصِل نے کہا، جدہ کتاب میلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ثقافتی ترقی اور مملکت کے ادب، اشاعت و ترجمہ کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے لیے سعودی قیادت مسلسل پُرعزم ہے۔
انہوں نے ناشران، مصنفین، مترجمین اور عوام کے لیے میلے کے دوطرفہ رابطہ پروگراموں پر روشنی ڈالی جو مواد کے معیار کو بہتر بنانے، تخلیقی ترقی کی حمایت کرنے اور علمی شراکت کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اس سال کا ثقافتی پروگرام میں لیکچرز، پینل ڈسکشنز اور ورکشاپس سمیت 170 سے زیادہ تقریبات شامل ہیں جو مملکت کے ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ بچوں کے لیے ایک وقف شدہ زون نوجوانوں کے لیے تیار کردہ ادبی اور تفریحی سرگرمیاں پیش کرے گا اور ساتھ ہی کتاب بینی اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مقابلے بھی ہوں گے۔
یہ میلہ سعودی عرب اور بیرونِ ملک سے ممتاز ادبا، مفکرین اور ثقافتی شخصیات کی میزبانی کرے گا جس میں 10 روزہ ادبی، فکری اور سائنسی تقریبات پیش کی جائیں گی۔
کتاب پر دستخط کرنے والے سٹیشنز پر قارئین کو اپنے پسندیدہ مصنفین سے ملاقات کا موقع ملے گا جبکہ ثقافتی تنظیمیں، کمیونٹی گروپس اور یونیورسٹیز اپنی تازہ ترین اشاعتیں اور اقدامات پیش کریں گی۔
ایک مانگا اینڈ اینیمی زون خصوصی کتابوں کے ساتھ ساتھ اس صنف کے مجموعے کو نمایاں کرے گا۔ مطالعے اور کتاب بیتی تک وسیع تر رسائی کو فروغ دینے کے لیے رعایتی کتابوں کا سیکشن بھی دستیاب ہو گا۔
اپنی کتب خود شائع کرنے والے مصنفین کے لیے سعودی مصنفین کے کارنر کے ذریعے یہ میلہ ابھرتی ہوئی سعودی آوازوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس حصے میں ادبی اور ثقافتی شعبوں میں کتابوں کے سینکڑوں عنوانات کی نمائش ہو گی جو مقامی صلاحیتوں کی پرورش اور مملکت کے ارتقا پذیر ادبی منظر کو تقویت دینے کے لیے میلے کا کردار نمایاں کرتی ہے۔