سعودی وزارت نقل و خدماتِ رسد نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ریاض اور دوحہ کے درمیان تیز رفتار برقی ریل کا منصوبہ دونوں ممالک کی مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً 115 ارب سعودی ریال کا اضافہ کرے گا، یہ خطے میں اقتصادی ہم آہنگی کو تقویت دینے والے نمایاں تزویراتی منصوبوں میں شامل ہو گا۔
سعودی عرب اور قطر نے با ضابطہ طور پر اس تیز رفتار برقی ریل کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو گی۔ ریل نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی تقریباً 785 کلومیٹر ہو گی اور یہ ہر سال 1 کروڑ سے زیادہ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کر سکے گی۔ توقع ہے کہ اس منصوبے کے تمام مراحل آئندہ چھ برسوں میں مکمل ہوں گے، جبکہ ریاض اور دوحہ کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً دو گھنٹے رہ جائے گا۔
#السعودية و #قطر توقعان اتفاقية الربط بالقطار الكهربائي السريع خلال رئاسة الأمير محمد بن سلمان والشيخ تميم بن حمد اجتماع المجلس التنسيقي بين البلدين#قناة_العربية#العالم_الليلة pic.twitter.com/iW3NthEgdW
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) December 9, 2025
وزارت کے مطابق دونوں ممالک اس منصوبے کے نفاذ کے لیے ایک مشترکہ ادارہ قائم کریں گے۔ ریل منصوبہ جدید ترین انجینیئرنگ اور تعمیراتی ٹیکنالوجی، جدید سگنلنگ و کمیونی کیشن نظام، جدید اسٹیشنوں اور مینٹیننس ورکشاپس اور اعلیٰ رفتار والی ٹرینوں کی فراہمی پر مبنی ہو گا۔
وزارتِ نقل نے مزید بتایا کہ منصوبہ اپنے تعمیراتی اور عملی مراحل کے دوران 30 ہزار سے زیادہ براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرے گا۔ یہ معیارِ زندگی بہتر بنانے، ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی، سیاحت کے فروغ اور خطے کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، خصوصاً بڑے پروگراموں اور ایونٹس کو متوجہ کرنے کے حوالے سے۔
اسی سلسلے میں معاشی محقق ڈاکٹر علی الحازمی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ریاض - دوحہ تیز رفتار برقی ریل منصوبہ سیاحت، صنعت اور ٹیکنالوجی جیسے اُبھرتے ہوئے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی - قطری ریل منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان سپلائی چینز کی مسابقت میں بھی بہتری لائے گا، کیونکہ یہ ہوائی اور زمینی کارگو کے مقابلے میں تیز تر اور زیادہ پائیدار متبادل فراہم کرے گا اور سیاحوں کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کرے گا۔
وزير النقل والخدمات اللوجيستية السعودي صالح الجاسر "للعربية": مشروع القطار الكهربائي بين #الرياض و #الدوحة يؤسس لمرحلة جديدة من التكامل الاقتصادي واللوجيستي في المنطقة وسيستغرق تنفيذه 6 سنوات وسينقل أكثر من 10 ملايين راكب سنويًا ويختصر الرحلة إلى ساعتين#قناة_العربية pic.twitter.com/FArE1s79gM
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) December 8, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ریاض کو بزنس کیپٹل اور دوحہ کو ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر ایک دوسرے سے قریب لائے گا، جس سے دونوں کے درمیان اقتصادی تکامل میں اضافہ ہوگا۔
نئی ریل نیٹ ورک کی شاخیں سعودی عرب کے تین اہم شہروں ریاض، الاحساء اور الدمام تک پھیلیں گی، جس سے اندرونی اور بیرونی رابطے بیک وقت مضبوط ہوں گے۔ تیز رفتار ٹرین ریاض کے کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی جوڑے گی، جس سے مسافروں اور سرمایہ کاروں کو عالمی فضائی اور کاروباری مراکز کے درمیان زیادہ تیز اور لچکدار سفر کے مواقع میسر آئیں گے۔
-
سعودی ولی عہد اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ
شام میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال
مشرق وسطی -
سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ اور ینبع میں ریکارڈ بارشیں
بارش کے موجودہ موسم نے جدہ اور ینبع میں معمولات زندگی کو شدیدمتاثر کیا ہے۔ شدید ...
مشرق وسطی -
جدہ کتاب میلہ ابھرتا ہوا سعودی ادبی منظر پیش کرنے کے لیے تیار
تقریب کا ثقافتی پروگرام سعودی ورثے کی عکاسی کرتا ہے
مشرق وسطی