مجموعی قومی پیداوار میں ریاض - دوحہ ٹرین کا حصہ 115 ارب سعودی ریال ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی وزارت نقل و خدماتِ رسد نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ریاض اور دوحہ کے درمیان تیز رفتار برقی ریل کا منصوبہ دونوں ممالک کی مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً 115 ارب سعودی ریال کا اضافہ کرے گا، یہ خطے میں اقتصادی ہم آہنگی کو تقویت دینے والے نمایاں تزویراتی منصوبوں میں شامل ہو گا۔

سعودی عرب اور قطر نے با ضابطہ طور پر اس تیز رفتار برقی ریل کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو گی۔ ریل نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی تقریباً 785 کلومیٹر ہو گی اور یہ ہر سال 1 کروڑ سے زیادہ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کر سکے گی۔ توقع ہے کہ اس منصوبے کے تمام مراحل آئندہ چھ برسوں میں مکمل ہوں گے، جبکہ ریاض اور دوحہ کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً دو گھنٹے رہ جائے گا۔

وزارت کے مطابق دونوں ممالک اس منصوبے کے نفاذ کے لیے ایک مشترکہ ادارہ قائم کریں گے۔ ریل منصوبہ جدید ترین انجینیئرنگ اور تعمیراتی ٹیکنالوجی، جدید سگنلنگ و کمیونی کیشن نظام، جدید اسٹیشنوں اور مینٹیننس ورکشاپس اور اعلیٰ رفتار والی ٹرینوں کی فراہمی پر مبنی ہو گا۔

وزارتِ نقل نے مزید بتایا کہ منصوبہ اپنے تعمیراتی اور عملی مراحل کے دوران 30 ہزار سے زیادہ براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرے گا۔ یہ معیارِ زندگی بہتر بنانے، ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی، سیاحت کے فروغ اور خطے کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، خصوصاً بڑے پروگراموں اور ایونٹس کو متوجہ کرنے کے حوالے سے۔

اسی سلسلے میں معاشی محقق ڈاکٹر علی الحازمی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ریاض - دوحہ تیز رفتار برقی ریل منصوبہ سیاحت، صنعت اور ٹیکنالوجی جیسے اُبھرتے ہوئے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی - قطری ریل منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان سپلائی چینز کی مسابقت میں بھی بہتری لائے گا، کیونکہ یہ ہوائی اور زمینی کارگو کے مقابلے میں تیز تر اور زیادہ پائیدار متبادل فراہم کرے گا اور سیاحوں کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ریاض کو بزنس کیپٹل اور دوحہ کو ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر ایک دوسرے سے قریب لائے گا، جس سے دونوں کے درمیان اقتصادی تکامل میں اضافہ ہوگا۔

نئی ریل نیٹ ورک کی شاخیں سعودی عرب کے تین اہم شہروں ریاض، الاحساء اور الدمام تک پھیلیں گی، جس سے اندرونی اور بیرونی رابطے بیک وقت مضبوط ہوں گے۔ تیز رفتار ٹرین ریاض کے کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی جوڑے گی، جس سے مسافروں اور سرمایہ کاروں کو عالمی فضائی اور کاروباری مراکز کے درمیان زیادہ تیز اور لچکدار سفر کے مواقع میسر آئیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں